خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 179 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 179

خطبات طاہر جلد ۱۱ 179 خطبه جمعه ۱۳/ مارچ ۱۹۹۲ء اس میں داخل نہیں فرمائی جبکہ اللہ تعالیٰ کا کسی بات کو داخل فرمانا اس کا امر بن جاتا ہے اور جیسا وہ فرما تا ہے ویسا ہو کر رہتا تھا مگر مسلمانوں کے حالات ان کی طاقتوں کو دیکھ کر ایک حقیقی منصوبہ بنایا پھر اس منصوبے میں اور عام انسانی منصوبے میں ایک اور نمایاں فرق ہے۔ہم آج جب مڑ کر تاریخ اسلام کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں سب سے زیادہ طاقتور اور ایمان میں مضبوط مومن محمد مصطفی مے کے ساتھی مومن دکھائی دیتے ہیں۔اس وقت بھی جو لوگ ان روحانی تجربوں میں سے گزر رہے تھے وہ جانتے تھے کہ اس سے زیادہ شان کے مومن نہ پہلے پیدا ہوئے نہ بعد میں ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں کہ منصوبہ بناتے وقت ان اولین مومنین سے یہ وعدہ نہیں کیا کہ تم ایک دو پر غالب آؤ گے بلکہ یہ وعدہ لمبا کر دیا یعنی بعد میں آنے والے ایک دس پر غالب آجائیں گے اور ابتداء کے جو پختہ مومن ہیں وہ ایک دو پر غالب آئیں گے اس میں آخر کیا بات تھی۔انسانی منصوبے کے لحاظ سے کچھ غلط ہو گیا ہے لیکن الہی منصوبہ چونکہ لازماً درست ہوتا ہے اس لئے خدا نے گہرے نفسیاتی حالات پر غور فرما کر یہ منصوبہ پیش کیا۔ابتداء میں جب مومن اپنے غیر سے ٹکراتا ہے تو غیر کو مومن کا تجربہ نہیں ہوتا اس لئے غیر کا حوصلہ بڑا ہوتا ہے اور مومن کی اصل طاقت کو نہیں سمجھتا اس لئے زیادہ زور کے ساتھ اور اپنے لحاظ سے یقین کے ساتھ مومن سے مقابلہ کرتا ہے کہ میں اس کو شکست دے لوں گا لیکن جوں جوں مومن کا رعب بڑھتا جاتا ہے اسی نسبت سے غیر کے مقابلے کی طاقت کمزور پڑتی چلی جاتی ہے۔پس حضرت محمد مصطفی میہ کے ابتدائی ساتھیوں کا رعب تھا جب وہ قائم ہوا تو اس نے بعد میں آنے والوں کو بھی عظیم طاقتیں عطا کر دیں۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں یا بعد کے زمانوں میں آپ جو عظیم فتوحات دیکھتے ہیں کہ تھوڑے بہتوں پر غالب آگئے یہ ان کا کمال نہیں تھا بلکہ الہی منصوبے میں یہ بات داخل تھی کہ حضرت محمد مصطفی ہے کے ساتھی مومنوں کی شان جوں جوں ظاہر ہوتی چلی جائے گی غیروں پر رعب پڑتا چلا جائے گا اور اپنوں میں مزید حوصلہ پیدا ہوتا چلا جائے گا، مزید یقین ہوتا پیدا چلا جائے گا۔پس دیکھیں الہی منصو بہ کتنا واقعاتی کتنا حقیقی ہے اور خدا تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کے مضمون کو اس منصوبہ میں داخل نہیں فرمایا۔پس مومن جب منصوبہ بناتا ہے تو دعا کے مضمون کے ساتھ کیوں منصوبے کا اختلاط کرتا ہے اللہ سے اس کے رنگ سیکھنے چاہئیں۔منصوبہ خالصہ حقیقی ہونا چاہئے ، واقعاتی ہونا چاہئے چنانچہ وہ لوگ