خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 174
خطبات طاہر جلدا 174 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء معنوں میں اولیا اللہ نہ سہی مگر کثرت سے ایسے احمدی پیدا ہوں جو خدا کے قرب کا لطف اُٹھا چکے ہوں جن کی باتوں کا خدا نے کسی نہ کسی رنگ میں جواب دے دیا ہو خواہ سچی خوابوں کے ذریعہ دیا ہو، خواہ دل کے اندر خاص تموج پیدا کر کے دیا ہو بعض دعاؤں کی حالتوں میں غیر معمولی طور پر گریہ کی تو فیق عطا فرمائی ہو اور اس کے نتیجہ میں سکیت بخشی ہو۔اللہ تعالیٰ کے قرب کے اظہار کے کئی طریق ہیں کچھ چھوٹے چھوٹے ابتدائی ہیں اور کچھ ایسے ہیں جو آگے بڑھتے ہوئے اولیا ء اللہ کے قریب ہو جاتے ہیں اور پھر انسان وہ لطف بھی اُٹھاتا ہے جو اولیاء کے لطف ہیں اور جب میں اولیاء اللہ کی بات کرتا ہوں تو اس میں تمام انبیاء شامل ہیں۔سب سے بڑا ولی نبی ہوا کرتا ہے اور اولیاء اللہ کی اصطلاح عملاً روحانی مراتب میں سے چاروں مراتب پر اطلاق پاتی ہے یعنی صالح شہید صدیق اور نبی۔پس ان وسیع تر معنوں میں ہمیں خدا تعالیٰ کا ولی بنے کی کوشش کرنی چاہئے اور روزہ ہمیں اس ولایت کے حصول کے قریب تر کر دیتا ہے۔سب سے بہتر سواری جس پر بیٹھ کر ہم خدا کا قرب اختیار کر سکتے ہیں وہ روزے کی سواری ہے کیونکہ اس میں بیٹھنے سے پیشتر اس سے کہ آپ سفر شروع کریں اللہ تعالیٰ کی آواز آتی ہے۔اِنِّي قَرِيب۔یعنی اگر صحیح معنوں میں آپ روزہ دار بن جائیں۔اور اس کے سارے حقوق ادا کریں تو اللہ تعالیٰ کے قرب کی آواز آپ کو عطا ہوگی۔اس ضمن میں سارے گھر کا ماحول درست کرنے کی ضرورت ہے۔مثلا گھروں میں عبادات کا ایک ذوق شوق پیدا کرنا چاہئے۔بڑے چھوٹے سارے فرضی عبادات بھی بڑی توجہ سے ادا کریں اس کے علاوہ فلی عبادات کریں۔تہجد کے وقت ماں باپ اُٹھیں تو بچوں کو بھی اُٹھائیں اور ان کو بتا ئیں کہ کھانا مقصود نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی لقاء مقصود ہے، پہلے عبادتیں کرو پھر وقت نکالو اور کھانے لئے آؤ اور ان کو ان کی عقلوں اور ان کے علم کے مطابق خدا تعالیٰ کا پیار پیدا کرنے کے لئے کچھ باتیں بتائیں کوئی ذوق شوق ان کے دل میں پیدا کریں۔بچپن میں یہ آسان ہوتا ہے اور اگر انسان خدا تعالیٰ سے دوری کی حالت میں لمبا عرصہ گزار دے تو بڑی عمر میں اس کی گندی عادتیں دنیا پر منہ مارنے کے رجحانات سختی اختیار کر جاتے ہیں اور اس کے لئے پھر نرمی کے مضامین کی طرف لوٹنا مشکل ہو جاتا ہے۔پس نرمی کے مضامین جو دل کو نرم کریں، جو اللہ تعالیٰ کی محبت کے لئے انسان کو تیار کریں وہ بچپن سے ہی دلوں میں ڈالنے چاہیں اور عبادات کا ماحول گھروں میں پیدا کرنا چاہئے۔