خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 166

خطبات طاہر جلدا 166 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء کی حدیث ہے قال رسول الله الله لكل شئ زكوة وزكوة الجسد الصوم۔۔۔۔۔۔والصيام نصف الصبر - ( سنن ابن ماجہ کتاب حدیث نمبر : ۱۷۳۵) آپ نے فرمایا کہ ہر چیز کی ایک زکوۃ ہوتی ہے اور جسم کی زکوۃ روزے ہیں اور روزہ نصف صبر ہے۔نصف صبر اس لئے فرمایا کہ صبر میں کسی چیز سے کلیہ محرومی پر انسان جو حوصلہ دکھائے اور راضی برضا ر ہے یہ سارا مضمون بھی داخل ہے لیکن رمضان شریف میں روزے کے دنوں میں انسان جوصبر دکھاتا ہے اس امید پر دکھاتا ہے کہ تھوڑی دیر کی بات ہے یا چند دنوں کی بات ہے پھر مجھے کھانے پینے کی ہر جائز چیز سے استفادہ کی کھلی چھٹی مل جائے گی تو نصف صبر فرمایا۔آنحضرت ﷺ کے ارشادات پر غور کرنے سے پتا چلتا ہے کہ جہاں حدیثیں صحیح ہیں اور درست ہیں اور کوئی ملاوٹ نہیں ہے ان میں۔وہاں ان کی عظیم الشان روشن نشانیاں موجود ہیں۔ایسی گہری حکمت کی باتیں ہیں جو حدیث وضع کرنے والے کے ذہن میں آہی نہیں سکتیں۔اب مثلاً صبر کہہ دینا کافی تھا۔آج جو آپ نے بات سنی ہے جنہوں نے پہلی دفعہ سنی ہے ان کے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی یہ بات نہیں آسکتی کہ نصف صبر کی بات کریں۔پس یہ عارف باللہ کا کلام ہے اور حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے کلام پر کھلی کھلی شہادت ہے۔پس آپ نے فرمایا کہ یہ زکوۃ ہے اور زکوۃ کی ایک قسم ہے اور اس قسم میں نصف صبر کا ثواب بھی شامل ہو جاتا ہے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا اس سے پہلے رکوع میں زکوۃ کا مضمون چل رہا ہے تو دیکھیں قرآن کریم کی آیات کس طرح ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں، مضبوط رشتے ہیں اور ایک تسلسل ہے جس میں عرفان کا ایک دریا بہتا چلا جا رہا ہے۔اسی ضمن میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ایک اور حدیث بھی آپ کے سامنے رکھتا ہوں ( وقت بچانے کے لئے صرف ترجمہ پر ہی اکتفا کروں گا ) یہ بھی حضرت ابو ہریرہ کی بیان فرمودہ حدیث ہے۔آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کے سب کام اُس کے اپنے لئے ہیں مگر روزہ میرے لئے ہے اور میں خود اس کی جزا بنوں گا۔(صحیح بخاری کتاب الصوم حدیث نمبر : ۱۷۷) یہ وہی مضمون ہے جس کی طرف میں نے قرآن کریم کی ان آیات پر روشنی ڈالتے ہوئے اشارہ کیا تھا۔روزے کی ہدایت کے معا بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَانِي قَرِيبٌ۔کہ اگر لوگ میرے متعلق تجھ سے سوال کریں یا جب میرے بندے تجھ سے سوال