خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 167
خطبات طاہر جلد ۱۱ 167 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء کریں تو میں قریب ہوں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر شخص جب خدا کے متعلق پوچھے تو خدا و ہیں اس کی باتوں کا جواب دینے لگے گا۔جو روزے کی عبادت جیسا کہ حق ہے ادا کرے اُس کی جزاء کا بیان ہورہا ہے اور جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے روزے کی جزاء میں خود ہوں۔قرآن کریم کی یہ آیات اسی مضمون کو بیان فرماتی ہیں اور یہی اس مضمون کا پہلے مضمون سے تعلق ہے کہ جو شخص خدا کی خاطر خدا تعالیٰ کی فرمودہ شرائط کے مطابق روزے رکھتا ہے ان کو کیا جزا ملے گی جیسا کہ زکوۃ کی جزاء پہلے بیان ہوئی ہے اس زکوۃ کی جزاء یہ ہے کہ اللہ فرماتا ہے میں خود اس کی جزاء ہوں۔إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔ان کو بتا دے کہ روزوں کے نتیجہ میں، ان عبادات کے نتیجہ میں میں ان کے قریب ہو جاؤں گا یا ان کو اپنے قریب دکھائی دوں گا اور اتنا قریب کہ أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔جب پکارنے والا مجھے پکارے گا تو میں اس کی باتوں کا جواب دوں گا۔فَلْيَسْتَجِبوالى اس معنی میں فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ یہ نشانات دیکھیں گے تو پہلے سے بڑھ کر میری اطاعت کریں گے۔پس ایسے لوگوں کو نصیحت کرتا ہوں جن پر میں خود جزا بن کر ظاہر ہوں کہ پہلے سے بڑھ کر میری ہدایات پر لبیک کہیں اور وَلْيُؤْمِنُوا لی اور ایمان کے اعلیٰ درجہ پر فائز ہوتے ہوئے مجھ پر ایمان لائیں۔بغیر ایمان کے تو خدا کودیکھنا ممکن ہی نہیں۔خدا سے سوال و جواب اور دُعاؤں کی قبولیت کا نشان بے ایمان لوگوں کو عطا ہوا ہی نہیں کرتا تو وَلْيُؤْمِنُوا لی کا مطلب ہے کہ ایمان کے اعلیٰ تر مقامات بھی آتے چلے جاتے ہیں۔ایمان کا ایک مقام ہے جس سے انسان سفر کا آغاز کرتا ہے دن بدن جتناوہ خدا کے قریب ہوتا چلا جاتا ہے اس کے ایمان میں ترقی ہوتی چلی جاتی ہے۔مزید نشانات ظاہر ہوتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ خدا تعالیٰ سے الہامات کا شرف حاصل کرلے مکالمہ مخاطبہ کی سعادت اس کو نصیب ہو، صاحب کشف ہو جائے ، سچی رؤیا اس کو دکھائی دینے لگیں یہ ساری باتیں اور تجربے ہیں جو خدا کا قرب رکھنے والوں کے تجارب ہیں جب اس مقام پر پہنچتا ہے تو فرمایا اس کا ایمان اور ترقی کرتا ہے ، اس کی اطاعت کی طاقت بڑھتی ہے۔پس ان معنوں میں فرماتا ہے کہ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ۔تا کہ وہ مزید ہدایت پاتے چلے جائیں اور یہ ایک نہ ختم ہونے والا رستہ ہے۔يَرْشُدُونَ میں ایک جاری