خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 165 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 165

خطبات طاہر جلدا 165 خطبہ جمعہ ۶ / مارچ ۱۹۹۲ء روزے نہیں رکھ سکے لیکن تمہارے بعد کے روزے خدا کے نزدیک ایسے ہوں گے جیسے تم نے رمضان کے روزوں کی عدت پوری کر لی ہو اور تمہیں کوئی روحانی نقصان نہیں ہے۔جب نقصان کوئی نہیں ہے تو بے وجہ پھر تکلف کر کے رمضان میں روزہ رکھنا جائز نہیں۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے محمد !وَ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِی۔اگر تجھ سے میرے بندے میرے بارہ میں دریافت کریں فَإِنِّي قَرِيب تو میں قریب ہوں۔أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعوت کو سنتا ہوں اور اس کا جواب دیتا ہوں۔فَلْيَسْتَجِيبُوا لِی شرط یہ ہے کہ وہ بھی میری باتوں پر لبیک کہا کریں اور جن نیکیوں کی طرف میں ان کو بلاتا ہوں اُن پر عمل کیا کریں۔وَلْيُؤْمِنُوا لی اور مجھ پر ایمان لائیں لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ تا کہ وہ ہدایت پائیں۔اس مضمون کا روزوں کے ساتھ گہرا تعلق ہے اور اس رکوع سے روزوں کا جو ذ کر چلا ہے اس کا پہلے رکوع میں مذکور عبادات کے ساتھ گہرا تعلق ہے کیونکہ اس سے پہلے رکوع میں زکوۃ کا یعنی مالی قربانی کا ذکر چل رہا تھا اور پہلے رکوع سے بھی پہلے کا یہ مضمون شروع ہوا ہے۔تو درحقیقت یہ دو الگ الگ باتیں بیان نہیں بلکہ ایک ہی چیز کے دو مختلف پہلو بیان ہورہے ہیں۔خدا کی خاطر مالی اور جانی قربانی کیسے کی جاتی ہے اور خدا تم سے کیا توقع رکھتا ہے؟ کن شرائط کے ساتھ اس قربانی کو قبول فرمائے گا اور ان قربانیوں کے نتیجہ میں تمہیں کیا کچھ حاصل ہوگا ؟ زکوۃ کے مالی حصے کے متعلق ذکر فرما کر اُس کے فوائد بیان کر دیئے اور بتایا اس سے تمہارے اموال میں کمی نہیں آئے گی بلکہ وہ بڑھیں گے تمہارے اعمال میں پاکیزگی پیدا ہوگی اور تمہیں برکتیں نصیب ہوں گی ہر طرف سے نشو و نما ہو گی۔ان آیات میں جس زکوۃ کا ذکر فرمایا ہے اس کی جزاء خدا خود ہے اور یہ یعنی روزہ مالی اور جانی قربانی جو زکوۃ کے عنوان کے تابع آتی ہیں ان کا معراج ہیں۔دوسری عبادتیں جیسا کہ نماز ہے وہ اپنا ایک الگ مرتبہ اور مقام رکھتی ہیں وہ زکوۃ میں شمار نہیں ہوتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نمازوں کی عبادت کو زکوۃ سے الگ بیان فرمایا ہے اور بعض پہلوؤں سے روزوں پر فضیلت دی ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس مضمون پر جو روشنی ڈالی ہے اس سے پتا چلتا ہے کہ یہ سارا مضمون مربوط ہے اور یہ باتیں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا حضرت ابوہریرہ