خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 130 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 130

خطبات طاہر جلدا 130 خطبه جمعه ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء بیٹھا ہوا ہوتا ہے تو تیرے لئے خدا جاگتا ہے اور تیرے لئے دشمن کے ہر منصوبے کو نا کام کرنے کے لئے ایک مقابل کا منصوبہ بنارہا ہوتا ہے۔پس تقومی آنحضرت ﷺ کی طرف بڑھنے کا نام ہے کیونکہ آپ نے ہمیں زبان ہی سے نہیں بلکہ عمل کے ذریعہ تقویٰ کے مضمون سکھائے ہیں۔پس ان معنوں میں فرمایا کہ تمہیں دشمن سے ڈرنے کی ضرورت نہیں مگر یہ متنبہ بھی فرما دیا کہ جب تم متقی بنو گے، جب خدا تمہاری کمزوریاں دور فرمائے گا تمہیں فرقان عطا کرے گا۔تو پھر یا د رکھنا بڑی مصیبتیں پڑیں گی تمہارے قتل کے منصوبے بنائے جائیں گے۔سب سے پہلے تو تمہیں گالیاں دے کر یا مغلظات بک کر اور ہر قسم کے بہتان تم پر لگا کر تمہیں ڈرا دھمکا کر اپنے مقصد سے ہٹانے کی کوشش کی جائے گی اور یہ تاثر پیدا کر کے کہ اس مقصد کی پیروی میں گھانا ہی گھاٹا ہے، متزلزل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔تم کہو گے کہ کس مصیبت میں مبتلا ہو گئے، کیا ضرورت تھی اس مشکل میں پڑنے کی؟ آرام سے گھر بیٹھو اور دشمن بھی یہی کہے گا کہ تم نے خود اپنے اوپر مصیبتیں ڈالی ہوئی ہیں آرام سے گھر کیوں نہیں بیٹھتے اور یہی وہ پروپیگنڈا ہے جو حکومت پاکستان نے ۱۹۷۴ء کے بعد اور پھر ۸۴ء کے بعد بڑے زور سے ساری دنیا میں کیا۔جب بھی احمدی اپنے درد ناک حالات بیان کرتے رہے تو بسا اوقات عدالتوں نے جن کے ہاں اُن کے کیس پیش تھے انہوں نے یہ سوال اٹھایا کہ ہمیں حکومت پاکستان کی طرف سے یا اُن کے فلاں فلاں نمائندے کی طرف سے یا Ambessidor کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ تم خود شرارت پیدا کرتے ہو تمہیں کیا ضرورت ہے کہ باہر نکل کر لوگوں کو اپنی طرف بلاؤ۔جب تم تبلیغ کرو گے تو پھر جو تیاں کھاؤ گے، مار پڑے گی حالانکہ نیک کام کی طرف بلا نا جرم نہیں ہے اور ان لوگوں کے اپنے قانون کے مطابق جرم نہیں ہے جو یہ اعتراض کرتے ہیں۔وہ تو احمد یوں کو اپنے مقصد میں نا کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو یہ ہے تمہیں اپنے ملک میں جگہ نہیں ملی ہم بھی اپنے ملک میں جگہ نہیں دینا چاہتے اور اس وجہ سے یہ دلیل بناتے ہیں کہ تم آرام سے گھر بیٹھے رہو کوئی تمہیں کچھ نہیں کہتا۔ظلم تب ہو گا جب تم گھر بیٹھے رہو کسی کو کچھ نہ کہو کسی کو اپنی طرف بلا ؤ نہیں اور پھر لوگ تمہیں گھر جا کر ماریں پھر تمہارا حق ہے ہمارے ملک میں آجاؤ لیکن دعوت دیتے ہوئے مار کھاؤ گے تو پھر یہ تمہارا قصور ہے۔یہ دلیل واقعہ بہت سی عدالتوں میں پیش کی گئی اور پھر جماعت کی طرف سے اس کا معقول مؤثر رد بھی پیش کیا جاتارہا لیکن بعض جوں نے نہیں تسلیم کیا۔