خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 129 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 129

خطبات طاہر جلد ۱۱ 129 خطبه جمعه ۲۱ رفروری ۱۹۹۲ء والے میں اور جس کو دعوت الی اللہ کی جاتی ہے اس میں ایک فرق تو ہونا چاہئے۔اگر فرق نہ ہو تو بلانے والا کس طرف بلاتا ہے اگر وہ اعلیٰ اخلاق کا مالک نہیں ، اگر وہ اعلیٰ خوبیوں کا حامل نہیں، اگر وہ خدا کی صفات اپنے اندر نہیں رکھتا اور اس میں اور غیر میں تفریق ہی کوئی نہیں ہے تو اندھا اندھے کو بصارت کی بشارت دے رہا ہے۔کوئی بلانے والا اگر خود بھوکا ہو تو خوراک کی طرف کیسے بلا سکتا ہے۔تو یہ مضمون ہے کہ پھر کچھ نہ کچھ تمہارے اندر ہونا چاہئے اور خدا فرماتا ہے ہم تمہیں فرقان عطا کریں گے اور فرقان عطا کرنے کی تشریح یہ ہے کہ وَ يُكَفِّرُ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ۔اللہ تعالیٰ تمہاری برائیاں دور فرمادے گا۔جب برائیاں دور فرمادے گا تو تم میں اور تمہارے غیر میں تمیز ہو جائے گی بہت نمایاں فرق نظر آئے گا۔وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ (ال عمران:۳۲) اور تمہارے گناہوں سے بخشش کا سلوک فرمائے گا۔بخشش سے مراد اخروی بخشش ہی نہیں وہ تو ہے ہی لیکن اس دنیا میں جب بخشش ہوتی ہے تو انسان اپنے اعمال کے بدنتائج سے بچایا جاتا ہے۔پس مراد یہ ہے کہ جو بداعمالیاں تم سے سرزد ہورہی ہیں یا ہو چکی ہیں اللہ تعالیٰ ان کے بدنتائج سے تمہیں محفوظ رکھے گا ہومرتبہ وہ تمہاری پردہ پوشیاں فرمائے گا۔بے شمار مرتبہ تم پریشان ہو گے کہ اب میں ان برائیوں کا برا نتیجہ دیکھنے والا ہوں اور دشمن بھی دیکھے گا اور کیا کہے گا کہ کون تھا کس کی طرف بلاتا تھا اور کیسی حرکتیں کرتا رہا؟ تو اس وقت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تیری مدد کو آؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ تیری نیت متقی بننے کی ہے۔پس یہاں متقی سے مراد وہ پاک نیت انسان ہے جو نیک بننے کا فیصلہ کرے اور خدا کی خاطر ایسا کرے اور تبلیغ کی خاطر ایسا کرے کیونکہ اگلی آیت کھلا کھلا بتارہی ہے کہ یہ تبلیغ کا مضمون ہے اور دعوت الی اللہ والے کے سوا کسی اور کا ذکر نہیں ہے کوئی عام ذکر نہیں۔فرمایا پھر ہم تمہیں فرقان کے دوسرے معنوں میں بھی فرقان دیں گے یعنی تمہیں دشمن پر ایک ایسا غلبہ عطا کر دیں گے کہ تمہارا مقصود تمہیں حاصل ہو جائے گا اس کے لئے فرمایا کہ دیکھو اللہ کے پاس بے شمار بہت بڑے فضل ہیں۔وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ کہ اللہ بہت بڑے بڑے فضلوں والا ہے۔اس کے پاس کسی قسم کی کمی نہیں ہے۔پھر آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ تو چونکہ متقیوں کا سردار ہے اس لئے دیکھ ہم تیرے سے یہ یہ سلوک کر رہے ہیں۔تو سویا ہوا ہوتا ہے تو دشمن کی شرارتوں سے دن کو بھی اور رات کو بھی غافل