خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 131
خطبات طاہر جلد 131 خطبه جمعه ۲۱ رفروری ۱۹۹۲ء تو مومن تو بغیر دعوت کے رہ نہیں سکتا اور دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں دعوت الی الخیر دینا یا آپ خیر کو چھوڑ بھی دیں تو ایسی دعوت دینا جس میں ایک شخص زبانی بغیر کسی زبردستی کے، بغیر کسی لالچ کے کسی کو اپنا ہم خیال ہونے کی طرف بلاتا ہو یہ جرم نہیں ہے اور اس دعوت کے نتیجہ میں کسی کو مارکٹائی کا کوئی حق نہیں لیکن خدا تعالیٰ نے متنبہ کر دیا کہ تم سے فرقان کا وعدہ تو ہے لیکن فرقان کے اور آج کے درمیان کافی منازل ہیں۔وہ چھوٹا سا ذرہ ، ریزہ جو سیپی کے منہ میں جاتا ہے ایک دن ہی میں تو موتی نہیں بن جایا کرتا۔سب سے پہلے خوشخبری رکھ کر حوصلہ بڑھا دیا ہے کہ تمہیں فرقان تو ملنی ہی ملنی ہے لیکن ملنے سے پہلے کچھ مشکلات آئیں گی، کچھ مراحل ایسے بھی آئیں گے جن میں بہت خوف ہیں ہم تمہیں پہلے سے متنبہ کرتے ہیں اور یہ بھی وعدہ کر رہے ہیں کہ ان خوفوں کو دور کیا جائے گا اور خدا تمہاری حفاظت فرمائے گا۔پس ہر تبلیغ کرنے والے کو یہ وارننگ ہے، یہ تنبیہ ہے کہ خواہ وہ کیسی ہی ہمدردی کے ساتھ ، نیک نیت کے ساتھ ، نیک طریق پر پیار اور محبت کے طریق پر ملائمت کے ساتھ تبلیغ کرے گا چونکہ اس کی تبلیغ میں غالب آنے کی طاقت موجود ہے اس لئے لازماً اس کی مخالفت غلط طریق اختیار کرے گی اور دلائل میں نا کامی کی وجہ سے دشمن دوسرے طریق اختیار کرے گا۔تو داعی الی اللہ کے لئے جو عام تنبیہ فرما دی گئی اس کا علاج بھی جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے تقویٰ کے طور پر آپ کے سامنے رکھا اور تقویٰ کی آسان تعریف کر کے اس کو آپ کے سامنے رکھا ہے۔خالص نیت اور خلوص کے ساتھ تم فیصلہ کر لو۔اب جو احمدی منصوبہ بنانے والا ہے خواہ وہ بڑا ہے یا چھوٹا ہے اُسے اب تقومی کے موضوع کو اپنے سامنے رکھ کر بیٹھنا ہو گا، یہ دیکھنا ہوگا کہ روزمرہ کی زندگی میں اس میں کیا کیا بد اخلاقیاں پائی جاتی ہیں؟ کیا کیا ایسی کمزوریاں ہیں جن کے ذریعے جس کو آپ دعوت الی اللہ کرتے ہیں وہ قریب آنے کی بجائے آپ سے دور ہٹ سکتا ہے ،اگر وہ بیرونی زندگی کی کمزوریاں ہیں تو وہ نکتہ بہ نکتہ لکھ کر ان کے متعلق توجہ کرنا تقویٰ ہے۔اگر ان کمزوریوں سے آپ آنکھیں بند رکھیں اور تسلیم نہ کریں تو یہ تقویٰ نہیں ہے۔تقویٰ کا لفظی ترجمہ ” بیچنا ہے تو جس کو گڑھوں کا پتا ہی نہیں وہ بچے گا کیسے؟ پس تقویٰ کی ابتدائی تعریف کی رو سے آپ کو سروے کرنا ہوگا، ایک جائزہ لینا ہوگا کہ کہاں کہاں میرے گڑھے ہیں کہاں کہاں میں ٹھو کر کھا سکتا ہوں ، کون کون سی مجھ میں کمزوریاں ہیں جن