خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 123 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 123

خطبات طاہر جلد اا 123 خطبه جمعه ۲۱ رفروری ۱۹۹۲ء دعوت الی اللہ اپنے گھروں سے شروع کریں۔ اسوہ رسول پر چلتے ہوئے اپنے گھروں کو جنت نشان بنادیں۔ ( خطبه جمعه فرموده ۲۱ فروری ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کیں۔ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانَا وَ يُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ وَإِذْ يَمْكُرُ بِكَ الَّذِينَ كَفَرُ واليُثْبِتُوكَ أَوْ يَقْتُلُوكَ أَوْ يُخْرِجُوكَ وَيَمْكُرُونَ وَيَمْكُرُ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ (الانفال: ۳۰ (۳) پھر فرمایا:۔ گزشتہ خطبہ میں میں نے جماعت کو اس طرف توجہ دلائی تھی کہ اللہ تعالیٰ جو قادر مطلق ہے اور جب چاہے جس چیز کا فیصلہ فرمائے ۔ جس انداز سے چاہے اُسے عدم سے وجود میں لاسکتا ہے۔ اس کے باوجود وہ منصوبہ بناتا ہے اور ہر کام جس کا فیصلہ کرتا ہے اس کے لئے ایک باقاعدہ منصوبہ بناتا ہے تو اس منصوبے کے تحت وہ کام جاری ہو جاتے ہیں۔ تو مومن کا کام ہے جو خدا کا سچا بندہ ہے کہ اللہ ہی کے رنگ اختیار کرے اور جس طرح خدا تعالیٰ ایک فیصلے کے بعد منصوبہ بناتا ہے مومن بھی اپنے کاموں میں منصوبہ بنائے ۔ مومنوں کے منصوبے سے متعلق گفتگو چل رہی ہے اس سلسلہ میں میں