خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 122 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 122

خطبات طاہر جلد ۱۱ 122 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء کا فیض کوئی پاتا ہے اس کے لئے دل میں ایک ملائمت پیدا ہو جاتی ہے، نرم نرم گوشے پیدا ہو جاتے ہیں۔اس کی بات کو ادب اور احترام سے سنتا ہے اور بے وجہ کی حجت بازیوں میں مبتلا ہو کر اس کے پیش کردہ دلائل کو رد نہیں کیا کرتا بلکہ اس کو بہت ہی ادب اور احترام سے اس خواہش کے ساتھ سنتا ہے کہ میرے دل میں جاگزین ہوں میں بات کو سمجھ جاؤں چنانچہ میرا بھی یہ تجربہ ہے کہ بسا اوقات ایسے لوگ کچھ دیر کے بعد اس دُعا کی بھی درخواست شروع کر دیتے ہیں کہ دُعا کریں ہمیں ہدایت نصیب ہو۔دعا کریں ہمیں توفیق ملے کہ ہم آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں اور یہ سلسلہ بعض دفعہ اس تیزی سے بڑھتا ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے قادیان کے سفر میں ایک سکھ خاندان سے رستہ چلتے تھوڑا سا تعلق قائم ہوا وہ اتنی تیزی سے بڑھا پہلے تو انہوں نے اپنے بچوں کے لئے اپنی مشکلات کے لئے دُعا کا کہنا شروع کیا پھر ایک دفعہ وقت لے کر آئے کہ میں نے ضرور ملنا ہے ان کو میں نے وقت دیا تو مجھے کہا کہ آپ میرے لئے اب یہ دعا کریں کہ اللہ مجھے ہدایت دے۔میں نے کہا۔ہاں ہاں میں آپ کے لئے دُعا کرتا ہوں تو کہا کہ نہیں نہیں آپ بات نہیں سمجھے مطلب ہے مجھے طاقت دے کہ میں آپ کے ساتھ شامل ہو جاؤں۔اب یہ جو باتیں ہیں یہ دُعا کے کرشمے ہیں اور دعوت الی اللہ کے لئے سب سے زیادہ ضروری دعا ہے۔باقی باتیں میں انشاء اللہ آئندہ خطبہ میں بیان کروں گا۔میں نے اس مضمون کو بہت کھول کر آپ پر روشن کیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی تھی فرمایا کہ يُفَصِّلُ الأيتِ۔بعض معاملات وہ خوب کھول کھول کر بیان کرتا ہے کیونکہ بعض ایسے اسباب ہیں جو نظر سے مخفی ہوتے ہیں جیسے وہ عمود جن پر ساری کائنات اُٹھالی گئی ہے دکھائی نہیں دیتے۔اگر اللہ تعالیٰ کھول کھول کر بیان نہ کرے تو لوگوں کو پتا بھی نہ لگے کہ ایسے عمود موجود ہیں پس دُعا کا عمل بھی ان عمود میں سے ہے جو سب سے زیادہ طاقت رکھتا ہے ساری کائنات کو یہ عمود اُٹھا سکتا ہے لیکن لوگوں کو نظر نہیں آرہا ہوتا۔پس اس آیت کریمہ سے نصیحت پاتے ہوئے میں نے بھی اس مضمون کو آج خُوب کھول کر آپ کے سامنے رکھا ہے۔اور میں اُمید رکھتا ہوں کہ اپنے لئے ہر منصو بہ بنانے والا اس سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کرے گا۔آمین