خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 120 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 120

خطبات طاہر جلد ۱۱ 120 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء دعا کرے اس کو توحید پر قائم رکھے۔اس کا سر اپنے سامنے نہ جھکائے بلکہ اس خدا کے سامنے جُھکائے جس کی طرف سے اور جس سے گریہ وزاری کے ساتھ وہ فیض مانگتے ہوئے اس کے لئے دُعا کر رہا ہے اور اللہ کے فضل سے اس کے نتیجہ میں بہت سے لوگوں کو اسلام میں داخل ہونے کی بھی توفیق ملی۔یہاں ایک بنگالی دوست ہیں۔ان کی بیوی بھی تعلیم یافتہ ہیں۔پڑھتے ہیں۔وہ ایک دفعہ اپنی بیماری کے سلسلہ میں آئے اور پھر ہو میو پیتھک دواؤں سے تو توجہ ہٹ گئی لیکن دُعاؤں کی طرف زیادہ ہوگئی اور سب سے زیادہ دُعاؤں کے لئے کہا کرتے تھے۔اللہ تعالیٰ نے فضل کیا اور ان کی بہت سی مرادیں پوری ہوئیں۔اب وہ کل باوجود اس کے کہ وقت نہیں لیا ہوا تھا وہ پہنچے کہ میں نے ضرور ملنا ہے۔ساقی صاحب نے کہا کہ وہ بڑا زور دے رہے ہیں۔میں نے کہا بلا لیں اُن کو۔جب ملے تو کہنے لگے کہ ہم تو سب ٹھیک ہیں لیکن میری بیوی کی ایک دوست ہیں اُن کو بڑا سخت ہارٹ اٹیک ہوا ہے اور وہ اس وقت بہت ہی خطرناک حالت میں ہسپتال میں ہیں۔وہ چونکہ میری بیوی سے آپ کے متعلق سنتی رہتی ہیں اس لئے اس نے مجھے اصرار کے ساتھ بھجوایا ہے کہ فوری طور پر جاؤ اور ان کو دُعا کے لئے کہو تب مجھے چین آئے گا۔پس دُعا کا معجزہ ایک زندہ معجزہ ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس کا تعلق صرف خلیفہ وقت سے نہیں ہے بلکہ ہر اُس شخص سے ہے جو خلافت احمد یہ سے خلوص کا تعلق باندھتا ہے اور اس راستے سے وہ اپنے تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور حضرت محمد مصطفی سے بھی مضبوط کرتا ہے اور آخری مقصد اس تعلق کا اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا ہے۔یہ وہ تو حید ہے جس پر قائم ہونے کے نتیجہ میں دُعاؤں کو برکت ملتی ہے۔مقبولیت کا فیض عطا ہوتا ہے اور ان دُعاؤں کے فیض سے آپ جگہ جگہ دیکھیں گے کہ لوگ احمدیت کی صداقت کے قائل ہونا شروع ہو جائیں گے۔لیکن افسوس ہے کہ دُعاؤں کے مضمون میں دعوت الی اللہ کرنے والے پوری طرح استفادہ نہیں کر رہے۔بعض دعوت الی اللہ کرنے والے دُعاؤں کی طرف متوجہ تو ہیں لیکن سمجھتے ہیں کہ دُعا سے مراد صرف اتنا ہے کہ مجھے لکھ دیں کہ میں ان کے لئے دُعا کروں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو پھل لگائے یا خود اپنی کوششوں کو پھل لگانے کے لئے خدا سے دُعا مانگتے رہیں۔اس سے انکار نہیں کہ یہ درست طریق ہے لیکن صرف یہی طریق نہیں ہے بلکہ دعا ایک ایسا زندہ درخت ہے جو ہر موسم میں ہر حال میں اعجازی پھل دکھاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بھی جیسا کہ حضرت