خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 121
خطبات طاہر جلد ۱۱ 121 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق ایک روایت ملتی ہے۔یہ ایک شہادت ہے کہ ایک دفعہ حضرت مصلح موعودؓ نے جو اُس وقت بچے تھے اور آپ کے ساتھ غالبا بہشتی مقبرہ کے باغ میں جارہے ہیں ایک ایسے پھل کی درخواست کی جس کا موسم نہیں تھا اور آپ نے دُعا کے ساتھ درخت کی طرف ہاتھ بڑھایا اور وہ پھل اُن کو دے دیا کہ یہ لو۔خدا تعالیٰ نے تمہیں پھل عطا فرمایا ہے۔اگر یہ روایت کرنے والے صادق نہ ہوتے تو اس واقعہ کو قبول کرنا بہت مشکل ہوتا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے حالات سے ہم سب لوگ واقف ہیں اور روایت کرنے والوں کے متعلق ہزار ہا گواہیاں ہیں کہ اُن کو جھوٹ سے کوئی دور کا بھی علاقہ نہیں تھا۔اس لئے ان باتوں پر یقین کرنا پڑتا ہے جن کے متعلق جب تاریخ بتاتی ہے تو یقین نہیں آتا۔پس دُعا میں یہ بہت بڑی طاقت ہے کہ وہ اعجازی پھل عطا کرتی ہے۔اس یقین کے ساتھ آپ ان لوگوں کے لئے دُعا کریں جن کو آپ تبلیغ کرتے ہیں اور ان کے لئے صرف احمدیت کی دُعانہ کریں کیونکہ احمدیت کی دُعا میں ان کی تمنائیں ساتھ شامل نہیں ہیں۔ان کے لئے وہ دُعا کریں جس دُعا کا فیض وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور ان کی دل کی تمنا پوری ہوں تب اُن کو یقین آئے گا۔ایک بیمار ہے جو حالت زار تک پہنچا ہوا ہے۔کئی ایسے مریض ہیں جن کے متعلق ڈاکٹر جواب دے دیتے ہیں، کئی ایسے مصائب ہیں جن میں انسان پھنس کر نجات کی کوئی راہ نہیں پاتا اور گھیرے میں آجاتا ہے کئی ایسی تکلیفیں ہیں جو قریبیوں سے پہنچتی ہیں، کئی ایسی تکلیفیں ہیں جو دشمنوں سے پہنچتی ہیں۔انسان کو سو قسم کے آزار ہیں اور ہر انسان جو بظاہر خوش بھی دکھائی دیتا ہے اس کو کوئی نہ کوئی فکر ضرور ہوتی ہے پس دعوت الی اللہ کرنے والے کو اپنے منصوبہ میں یہ بات لکھ لینی چاہئے کہ میں انبیاء کی زبان میں بھی دُعائیں مانگوں گا اور دُعا کے لئے دوسروں کو بھی لکھوں گا اپنے لئے بھی دُعا کروں گا لیکن خُدا تعالیٰ سے یہ اعجاز بھی مانگوں گا جن لوگوں کو میں تبلیغ کرتا ہوں اُن کو میری دُعا سے دُنیاوی فوائد بھی حاصل ہوں ، مادی فوائد بھی عطا ہوں تا کہ ان کا دل اس یقین سے بھر جائے کہ یہ شخص جو مجھے خدا تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے یہ گھر سے آنے والا ہے، کوئی دور کی آواز نہیں ہے بلکہ گھر کے اندر سے اُٹھنے والی آواز ہے۔اس کا اللہ تعالیٰ سے تعلق ہے جب یہ منزل طے ہو جائے تو ہر دوسری روک رستے سے اُٹھا دی جاتی ہے۔اس کے نتیجہ میں ضروری نہیں کہ ایک انسان حق کو قبول کر لے لیکن جس شخص کی دُعاؤں