خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 119
خطبات طاہر جلد ۱۱ 119 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء رستے سے آرہے ہیں اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ہم تمہارے لئے دعائیں کرتے ہیں۔دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان دُعاؤں کو قبول فرماتا ہے اور تم پر ہمارا خدا سے تعلق ثابت کر دیتا ہے۔سب دلیلوں سے بڑی دلیل دُعا کی دلیل ہے اور مقبول دُعا کی دلیل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تبلیغی ہتھیاروں میں سب سے بڑی فوقیت دُعا کو دی اور اپنی صداقت کے نشانوں کے طور پر سب سے زیادہ مقبول دعاؤں کو پیش فرمایا۔ایسی کتابیں تحریر فرمائیں جیسے حقیقۃ الوحی۔نشان آسمانی وغیرہ۔جن میں کثرت سے ان دعاؤں کا ذکر ہے جن کی قبولیت کے خدا نے ظاہر و باہر نشان دکھائے اور بہت سے احمدی ہیں جن کے آباؤ اجدادان مقبول دعاؤں کو دیکھ کر احمدی ہوئے تھے۔شائد ہی آج احمدیت میں کوئی ایسا گھر ہو جن کے آباؤ اجداد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں احمدی ہوئے ہوں اور ان کی احمدیت میں دُعاؤں کا دخل نہ ہو یا اُن کی اپنی دُعاؤں کا دخل ہے یا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بزرگ صحابہ کی دُعاؤں کا دخل ہے یا انہوں نے براہ راست حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعاؤں کا فیض پایا ہے یا حضرت مسیح موعود کی دُعاؤں کو قبول ہوتے دیکھا ہے اور اس سے مرعوب ہو کر انہوں نے احمدیت کی سچائی کو قبول کیا۔پس سارے دلائل ایک طرف اور مقبول دُعائیں ایک طرف اس کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔اب کثرت سے یہ رجحان پیدا ہو گیا ہے مختلف ممالک سے لوگ خط لکھتے ہیں کہ میں عیسائی ہوں، میں ہندو ہوں، میں سکھ ہوں ، میں فلاں ہوں، میں مسلمان ہوں، لیکن احمدی نہیں۔لیکن آپ کی مقبول دُعا کے بعض واقعات میں نے سُنے ہیں۔بعض احمد یوں نے مجھے بتایا ہے اس لئے میں درخواست کرتا ہوں کہ میرے لئے اس معاملہ میں دُعا کریں اور پھر بسا اوقات ان کا ایک خط آتا ہے کہ اللہ کے فضل کے ساتھ یا وہ بھگوان کہتا ہے تو بھگوان کی کر پاسے وہ کام جو بظا ہر ممکن نہیں تھا وہ ہو گیا ہے اور میرے فلاں فلاں دوست نے بھی دُعا کے لئے کہا ہے اور فلاں نے بھی کہا ہے گویا کہ دُعا کروانے والوں کا سلسلہ پھیلتا چلا جاتا ہے۔بعض دفعہ لڑکوں کے لئے دُعا مانگنے کے لئے درخواست کرتے ہیں۔اس میں میں شرط لگا تا ہوں کہ دُعا کے لئے کوئی شرط نہیں ہوا کرتی مگر میں اپنی دل کی مجبوری سے یہ شرط لگا تا ہوں کہ لڑکے کوموحد بناؤ گے مشرک نہیں بناؤ گے۔ایک خدا کی عبادت کرنے والا بناؤ گے کیونکہ اگر میں یہ شرط نہ لگاؤں تو وہ مجھے نعوذ باللہ خدائی طاقتوں والا سمجھنے لگیں گے اور دُعا کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ جس کے لئے