خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 116

خطبات طاہر جلدا 116 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء فضل سے ان کے نتیجہ میں مشکلوں کو آسان فرما دیتا ہے۔کئی دعوت الی اللہ کرنے والے ایسے ہیں جنہوں نے اس مضمون کی دعا کے ساتھ اپنے واقعات لکھے ہیں کہ اس طرح ایک موقع پر ہم تبلیغی گفتگو کے دوران سخت مشکل میں پھنس گئے اس وقت ذہن اسی دعا کی طرف متوجہ ہوا اور دعا کی اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے معجزانہ طور پر وہ مشکل حل فرما دی اور اس مشکل کام کو آسان فرما دیا اور مخالف کو خدا کے فضل سے شکست کھانی پڑی۔پس یہ دُعا ئیں بہت طاقتور دعائیں ہیں یہ وہ روحانی ہتھیار ہیں جن کے بغیر کوئی داعی الی اللہ میدان میں نکلنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا کیونکہ اس پر وہی بات صادق آئے گی کہ ے اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں ހނ کیسی لڑائی کو نکلو گے جب کہ وہ ہتھیار آپ کے پاس نہ ہوں جو آزمودہ ہتھیار ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے خود آپ کے لئے مہیا فرما دیا ہے یہ کہتے ہوئے کہ پہلے بھی بڑے لوگوں نے یہ ہتھیار استعمال کئے تھے اور کامیابی سے استعمال کئے تھے۔آؤ اور میرے اسلحہ خانے سے یہ ہتھیار لو اور ان ہتھیاروں سے سج دھج کر پھر میدان میں نکلو۔وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِسَانِی۔اے خدا میری زبان کی گانٹھ کھول دے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق یہ آتا ہے کہ آپ کو لکنت تھی اور لکنت کے نتیجہ میں وہ سمجھتے تھے کہ میں پیغام صحیح پہنچا نہیں سکوں گا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اس بشری کمزوری تک اس دعا کو محدود رکھنا درست نہیں ہے کیونکہ وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِسَانِي مراد صرف یہ نہیں ہے کہ میں بغیر لکنت کے بات کر سکوں۔مراد یہ ہے کہ مجھے فصیح و بلیغ کلام کی قدرت عطا فرمانا، میں جو مضمون بیان کروں کسی مضمون کے بیان کے وقت میری زبان میں گانٹھ نہ پڑے۔کوئی تردد نہ آئے۔پس یہ تبلیغی میدان میں گفتگو کے وقت فصاحت و بلاغت مانگنے کی عجیب دعا ہے۔دیکھیں کیسی نیک انجام دعا ہے کسی پہلو کو خالی نہیں چھوڑتی۔پھر عرض کیا کہ اے خدا! میری فصاحت و بلاغت کس کام کی اگر دشمن میری بات سمجھے ہی نہ۔ایسی فصاحت و بلاغت عطا فرما کہ يَفْقَهُوا قَوْلِي کے میرے مخاطب میری باتوں کو سمجھنا شروع کر دیں۔پھر اگر وہ انکار کریں گے تو ان پر حجت تمام ہو چکی ہوگی پھر خدا کی تقدیر حرکت میں آئے گی۔پس فرعون اور اس کے ساتھیوں کا غرق اس دعا کے نتیجہ میں حجبت تمام ہونے کے بعد ہوا ہے۔لاعلمی کی حالت میں اُن سے یہ سلوک نہیں کیا گیا۔پس بہت عظیم الشان دُعا