خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 117
خطبات طاہر جلد ۱۱ 117 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء ہے اور بہت گہرے مطالب رکھتی ہے پس جو بھی دعوت الی اللہ کا منصوبہ بنانے بیٹھے وہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سورۃ فاتحہ کے مضمون کو ذہن میں رکھے۔اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی آیت پہلے لکھے پھر سوچے کہ اس آیت کے تابع اور کونسی آیات قرآنی ہیں جو میرے کام میں ممد و معاون ثابت ہو سکتی ہیں ان میں سے یہ آیت جیسا کہ میں نے چن کر پیش کی ہے یہ بھی شامل کرے پھر وہ دعا ہے۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ (البقره: ۲۵) کہ اے ہمارے رب! أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا ہم پر اپنے فضل سے صبر نازل فرمادے۔افْرِح کی دُعا میں ایک بہت ہی لطیف بات یہ ہے کہ صبر کرنا مشکل ہوتا ہے اور أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا کا مطلب ہے کہ صبر کو ہمارے لئے آسان فرمادے صبر میں ہمیں شرح صدر عطا فرما ایسے صبر کی طاقت عطا فرما جس سے طبیعت میں فراغت کا احساس ہو اور کھلے دل سے صبر کرے ورنہ بعض ایسے صبر کرنے والے بھی ہوتے ہیں جو واویلا بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں صبر آ گیا اور ساتھ ان کا دل بھی غم میں گھلتا رہتا ہے تو آفریح کی دُعا بہت ہی عظیم الشان دُعا ہے۔اس راہ میں تکلیفیں آئیں گی۔یہ بھی اس دعا کا پیغام ہے اس دعا سے دعوت الی اللہ کرنے والے کو یہ تنبیہہ بھی ہو جاتی ہے کہ جو کام ہے اس راہ میں مشکلات ہوں گی ، دل آزاریاں ہوں گی ، طرح طرح کے دُکھ دیئے جائیں گے ، عزتوں پر حملہ کیا جائے گا، جان مال پر بھی حملہ ممکن ہے ، پس یہ راستہ بہت مشکل راستہ ہے۔اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر اس راستہ کا طے کرنا ہمارے لئے ممکن نہیں ہے تو یہ دُعا سکھائی۔رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا۔اے خدا! وہ صبر دے جو دل میں کشائش پیدا کر دے۔دل میں ایک اطمینان کا احساس بھی پیدا کر دے کہ ہم اس صبر سے خوب راضی ہو جائیں۔وَثَبِّتُ اَقْدَامَنَا۔اور اس راہ میں ہمارے قدموں کو مضبوط کر۔اب دیکھیں أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا کے ساتھ ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا کا گہرا تعلق ہے۔وہ صبر جوطوعاً و کرہا اس طرح اختیار کیا جائے کہ انسان اس صبر پر راضی نہ ہو۔اس کے نتیجہ میں اس کو جدوجہد کی طاقت نصیب نہیں ہو سکتی وہ صبر طاقت بخشتا ہے جس کے ساتھ شرح صدر عطا ہو۔جو کچھ