خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 113 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 113

خطبات طاہر جلدا 113 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء پہلے خدا کو بلائیں کیونکہ خدا کی خاطر کام ہونے ہیں اور سب سے زیادہ معین اور مددگار تو اللہ ہے اور جب تک خدا کا وجود ذہن پر غالب نہ رہے اور تبلیغ کے سلسلہ میں ہر وقت توجہ خدا کی طرف مبذول نہ ہو اس وقت تک کوئی تبلیغ بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔اس لئے منصوبے میں سب سے پہلے دعا ئیں لکھیں۔آپ نے نمازوں میں بہت سی دعائیں سنی ہوں گی اگر روز مرہ توفیق نہیں ملتی تو جلسے کی نمازوں میں ہی کئی دفعہ آپ دعاؤں والی آیات سنتے ہیں یا سُنتی ہیں۔ہوسکتا ہے کہ اکثر کو ان کے معانی نہ آتے ہوں اس لئے پتا ہی نہ لگے کہ ہم کیا سن رہے تھے اور ان دعاؤں میں کیا طاقتیں ہیں۔اس سلسلہ میں جب میں نے خطبات میں بعض نیک لوگوں کی جو دعائیں بیان کی تھیں وہ آپ کی مددکر سکتی ہیں۔خطبات کا وہ سلسلہ جس میں عبادات میں جان ڈالنے کا مضمون چل رہا تھا اس میں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کے تابع نیک لوگوں کی دعائیں ہیں جو قرآن کریم میں درج ہیں جن پر خدا نے انعام فرمایا وہ بیان کی گئی ہیں۔ان دعاؤں میں بہت سی ایسی دعائیں ہیں جن کا دعوت الی اللہ سے تعلق ہے۔پس جب آپ دعا کا منصوبہ بنا ئیں تو سب سے پہلے ان دعاؤں کی طرف دھیان جانا چاہئے اور چونکہ یہ مضمون سورہ فاتحہ سے شروع ہوا تھا اس لئے سب سے پہلی دعا جو آپ کے ذہن میں آنی چاہئے وہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کی دعا ہے۔اب اس سے معاملہ اس حد تک آسان ہو گیا کہ یہ دعا ہے جو اکثر احمدیوں کو آتی ہے یا آنی چاہیے اور اس کے بغیر نہ نماز مکمل اور نہ کوئی اور نیک کام مکمل۔تو جب منصو بہ بناتے وقت ایک بچہ یا بچی جب سوچ رہے ہوں تو ان کو سوچنا چاہئے کہ میں دعاؤں کا منصوبہ بنارہی ہوں یا بنا رہا ہوں اور اگر مجھے بنیادی دُعا سورہ فاتحہ ہی یاد نہیں تو میں کام کو کیسے آگے چلاؤں۔پس ایسی صورت میں منصوبہ بنانے والا سب سے پہلے اپنے اوپر لازم کرے گا اور یہ لکھے گا کہ مجھے نماز پڑھنی چاہئے اور سورۃ فاتحہ کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے اور سورۃ فاتحہ میں جو مرکزی دعا ہے اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ وہ دعا کرتے ہوئے ہمیشہ اپنے لئے خاص طور پر یہ مضمون ذہن میں رکھتے ہوئے دعا مانگنی چاہئے کہ اے خدا! کہ میں تیری ہی عبادت کرتی ہوں یا کرتا ہوں یا جب لفظ ہم بولتے ہیں تو اس میں مذکر مونث کا سوال اُٹھ جاتا ہے اس لئے میں ”ہم“ کے صیغہ میں بات کروں گا۔ہم جو عبادت کرتے ہیں یا کریں گے صرف تیری کرتے ہیں اور صرف تیری