خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 112
خطبات طاہر جلدا 112 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء ملیں اور پھل لگنے تک جو محنت مجھے کرنی چاہئے مجھے اس محنت کی توفیق بھی عطا فرما۔یہ دعا کر کے دونفل پڑھ کے اگر کوئی شخص منصوبہ بنانے کے لئے بیٹھے گا تو یقیناً اس کے بعد وہ کام شروع ہو جائے گا اکثر دعوت الی اللہ کرنے والے جو غافل ہیں وہ اس لئے ہیں کہ نہ وہ دعا کرتے ہیں نہ سنجیدگی سے اپنی ذات کے لئے کوئی منصوبہ بناتے ہیں۔آپ کے علم میں مختلف طبقات کے احمدی ہوں گے آپ ان پر نظر ڈال کر دیکھ لیں، اپنے نفس کا بھی جائزہ لے کر دیکھیں آپ کو معلوم ہو گا کہ دعوت الی اللہ کی خواہش تو پیدا ہوئی لیکن عملاً ٹھوس کام کرنے کی طرف بہتوں نے پہلا قدم بھی نہیں اُٹھایا۔تعلقات کے دائرے ہیں وسیع سوشل رابطے موجود ہیں لیکن یہ سمجھ نہیں آتی کہ دعوت الی اللہ کیسے کریں گے؟ سکول جانے والے بچے ہیں، بچیاں ہیں اگر وہ چاہیں تو اپنے دائرے میں تبلیغ کی تو فیق مل سکتی ہے مگر کیسے کریں اس کی ان کو سمجھ نہیں آتی اس لئے باہر سے جو پیغام ان کو ملتے ہیں کہ تبلیغ کرو، وہ کوئی نتیجہ نہیں پیدا کر سکتے۔پس ہر شخص کو بیٹھ کر جیسا کہ میں نے کہا ہے دعا کرنے کے بعد اپنا منصو بہ خود بنانا چاہئے مثلاً ایک سکول کی بچی جب کاغذ لے کر بیٹھے گی تو پہلے تو خالی دماغ کے ساتھ اس کو سمجھ نہیں آئے گی کہ کیا لکھوں، کیسے منصوبہ بناؤں؟ یہ جو بے بسی کا احساس ہے یہ کچھ دیر رہے گا پھر وہ سوچے گی اور غور کرے گی تو کہے گی اچھا! میری فلاں فلاں سہیلیاں ہیں، فلاں مس ہے اس کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں تو میں ان کو کوئی لٹریچر دے دیتی ہوں ان کو گھر پر دعوت پر بلا لیتی ہوں۔اپنے امام صاحب کو یا کسی اور بزرگ سے درخواست کرتی ہوں کہ میں اپنی سہیلیوں کو یا اپنی مس وغیرہ کو دعوت پر بلا نا چاہتی ہوں آپ اگر تشریف لاسکیں یا آپ کی بیگم میں یہ صلاحیت ہو کہ ان سے گفتگو کرسکیں تو وہ آجائیں یا پھر لجنہ سے درخواست کر سکتی ہے غرضیکہ اس کے منصوبے کا آغاز ہو جائے گا۔پھر آگے منصوبہ کیسے بڑھے اس سلسلہ میں جب میں یہ مضمون آگے بڑھاؤں گا تو اس بچی کو جس کے متعلق میں سوچ رہا ہوں کہ وہ اس طرح کا غذ لے کر منصوبہ بنانے کیلئے بیٹھے گی اور چھوٹوں بڑوں سب کو کئی قسم کے اور خیالات ، کئی قسم کے ایسے طریق معلوم ہوں گے جن کے ذریعہ وہ خدا کے فضل سے اپنے لئے چھوٹا سا منصوبہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔منصوبوں کے سلسلہ میں سب سے پہلے دعاؤں کا منصوبہ بنانا چاہئے۔بجائے اس کے کہ انسان یہ سوچے کہ میں اپنے دوستوں کو بلاؤں اور پھر کسی کو ڈھونڈوں کہ ان کو تبلیغ کر سکے۔سب سے