خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 114 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 114

خطبات طاہر جلد ۱۱ 114 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء عبادت کریں گے۔یہ فیصلہ ہے مگر تیری توفیق کے بغیر یہ ممکن نہیں۔اس لئے ايَّاكَ نَسْتَعِينُ۔ہم تجھ سے ہی مدد مانگتے ہیں اور ہمیشہ تجھ سے ہی مدد مانگتے رہیں گے۔یہ بنیادی دُعا کرنے کے بعد اس دعا کے ذریعے مختلف مضامین میں دعائیں مانگی جاسکتی ہیں مثلا ایک دعوت الی اللہ کرنے والا پھر دوبارہ اس مضمون پر غور کرتے ہوئے یہ دعا مانگ سکتا ہے کہ اے خدا ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور صرف تیری ہی کریں گے اور ہم میں ساری دنیا اس کے ساتھ شامل ہو اور یہ دعا ارادہ بن جائے کہ ہم دنیا سے غیر اللہ کی عبادت کو مٹانے کا عزم رکھتے ہیں، ہم بطور بنی نوع انسان جن کی نمائندگی میں کر رہا ہوں یا کر رہی ہوں۔ہم یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اے خدا! تیرے سواد نیا میں اب کسی اور کی عبادت نہیں ہوگی اور اس غرض کے لئے ہم جو کوشش کرنا چاہتے ہیں اس میں تیری مدد چاہئے اور تو ہماری مددفرما تا کہ ہم کامیابی کے ساتھ تیرا پیغام دنیا میں پھیلا سکیں اور تیری عبادت کو قائم کر سکیں۔پس اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کی دعا جو روزانہ ہر نماز کی ہر رکعت میں خدا کا ہر بندہ خدا سے مانگتا ہی ہے اس دعا کو دعوت الی اللہ کی دعا کے لئے ظرف بنا دیں، وہ برتن بنادیں جس میں آپ اللہ سے اللہ کے فضلوں کی بھیک مانگیں اور پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ان لوگوں کی دعائیں یاد کریں جن لوگوں نے خدا سے انعام پائے اور دعوت الی اللہ کے سلسلہ میں انہوں نے عاجزانہ دعائیں کیں۔ایسی دعائیں کیں جن کو خدا نے اس حد تک پسند فرمایا کہ حضرت محمد مصطفی امیہ کو وحی کے ذریعہ مطلع فرمایا کہ یہ بندہ فلاں زمانے میں میری خاطر دُعا کے لیے نکلا تھا اور یہ دعا کرتا تھا۔یہ اس لئے کیا کہ آپ کی امت ہمیشہ دعاؤں سے فائدہ اُٹھاتی رہے تو ایک دعوت الی اللہ کرنے والے کو یہ پتا ہی نہ ہو کہ اس سے پہلے دعوت الی اللہ کرنے والوں نے خدا سے کس کس رنگ میں مدد مانگی تھی، جو مقبول ہوئی، جو خدا کو پسند آئی وہ کیسے اپنے لئے خدا تعالیٰ سے اچھے فیض کی توقع رکھ سکتا ہے۔اس کے دل میں یہ جذبہ پیدا ہی نہیں ہوگا نہ ادھر سے جواب آئے گا۔پس ان دعاؤں میں سے مثلاً حضرت موسیٰ کی دُعا ہے: صلى الله رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي ( ۲۹ تا ۲۹)