خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 111
خطبات طاہر جلد ۱۱ 111 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء کے وقت تصور بھی نہیں کر سکتے کہ اس منصوبے کو انفرادی منصوبوں میں ڈھالنے کی راہ میں کتنی وقتیں حائل ہیں۔ایک اور طریقہ منصوبہ بنانے کا یہ ہوا کرتا ہے کہ انفرادی منصوبہ بنوایا جائے اور ان منصوبوں کو اکٹھا کر کے ان کی روشنی میں مرکزی منصوبہ بنایا جائے یہی مقبول طریق ہے یہی درست طریق ہے ورنہ حقیقت میں اکثر جو مرکزی منصوبے ہوتے ہیں وہ الا ماشاء الله فرضی اور خیالی رہتے ہیں۔مجھے یاد ہے کہ میں نے ایک دفعہ ایک موقع پر ہدایت دی کہ اس طرح تفصیل کے ساتھ کاموں کو تقسیم کیا جائے اور مجھے مرکزی شعبے کی طرف سے رپورٹ ملی کہ ہم نے اس طرح تقسیم کر دیئے ہیں۔میں نے کہا کہ میرا یہ مطلب تو نہیں تھا کہ آپ گھر بیٹھیں ایک فقرہ لکھ دیں کہ ہم نے کام تقسیم کر دیئے ہیں۔چند منٹ میں آپ الائمنٹس کر دیں کہ تم نے اتنا کرنا ہے۔تم نے اتنا کرنا ہے مراد یہ ہے کہ پہلے آپ اُن سے پتا کریں کہ ان کی صلاحیتیں کیا ہیں؟ کتنے دوست ان کاموں میں شامل ہو سکتے ہیں؟ ان دوستوں سے وعدے لیں اور معلوم کریں کہ واقعہ وہ تیار ہیں بھی کہ نہیں۔پھر ان کوائف کو اکٹھا کریں۔ان کے نتیجہ میں جو مرکزی منصوبہ بنے گا وہ حقیقی ہوگا ورنہ یہ سب فرضی باتیں ہیں۔پس جماعت کے عمومی منصوبے کی کامیابی کے لئے بھی ضروری ہے کہ ہر وہ شخص جو دعوت الی اللہ کا ارادہ رکھتا ہے وہ اپنے لئے کسی وقت بیٹھ کر الگ منصو بہ بنائے۔اب دیکھیں دعوت الی اللہ کرنے والوں میں بڑی عمر کے لوگ بھی ہیں چھوٹے بچے بھی ہیں ،عورتیں بھی ہیں، مرد بھی ہیں، کالج کی پڑھنے والی لڑکیاں بھی ہیں اور کام کرنے والے لوگ ہیں، ہر ایک کے حالات مختلف ہیں، ہر ایک کا علم مختلف ہے ، ہر ایک کو مختلف وقتوں میں مختلف دنوں میں وقت میسر آتے ہیں اور ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو کسی مرکزی کلاس میں شامل ہو ہی نہیں سکتے لیکن نیک ارادہ رکھتے ہیں۔ان سب کو میری نصیحت یہ ہے کہ وہ سب سے پہلے تو دعا کریں ، دو نفل پڑھیں۔اللہ تعالیٰ سے مدد چاہیں اور خدا سے یہ عرض کریں کہ اے خدا! تو جانتا ہے کہ ہمارے پاس بہت ہی معمولی ذرائع ہیں اور ہمیں ہر لحاظ سے کمزوری کا احساس ہے اپنی بے بسی کا احساس ہے۔اس لئے آج ہم تیری خاطر منصوبہ بنانے کے لئے بیٹھے ہیں تو ہمیں روشنی عطا فرما اور ہمیں توفیق عطا فرما کہ جو منصوبہ بنائیں تیری رضا کو حاصل کرنے والا ہو اور جو منصوبہ بنائیں وہ ثمر دار بنے اس کو پھل