خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 110
خطبات طاہر جلد ۱۱ 110 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء الله بات کرتے ہیں، انسانی زاویہ نظر سے دیکھتے ہیں تو تدبیر پہلے آتی ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف بلند ہوتی ہے اور پھر خدا کی تقدیر میں تبدیل ہو جاتی ہے۔یہی وہ مضمون ہے جس کے متعلق حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے فرمایا بعض الجھے ہوئے پراگندہ بالوں والے انسان جن کے سر میں خاک پڑی ہو ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جب وہ کہتے ہیں کہ خدا ایسا ضرور کرے گا تو خدا ایسا ضرور کر دیتا ہے۔(ترمذی کتاب المناقب حدیث نمبر: ۳۷۸۹) تو بعض دفعہ نیک بندے کی تدبیر جو خدا کی خاطر بنائی جاتی ہے خدا تعالیٰ کو ایسی پیاری لگتی ہے کہ وہ اس کی تقدیر میں تبدیل ہو جاتی ہے اور پھر خدا کی تقدیر دنیا میں تدبیریں اختیار کرتی ہے اور وہ خدا کی غالب تدبیریں ہیں جو انقلاب برپا کیا کرتی ہیں۔پس اس مضمون کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ تدبیر بندے کے لئے بہت ضروری ہے اور مخلصانہ تدبیر ہے جو دراصل خدا تعالیٰ کی تقدیر کو حرکت میں لاتی ہے یا دوسرے لفظوں میں یہی تدبیر اللہ کی تقدیر بن جایا کرتی ہے۔تو ہر وہ دعوت الی اللہ کرنے والا جو دل میں نیک ارادے باندھتا ہے اگر وہ ان ارادوں کے بعد کسی وقت آرام سے بیٹھ کر تد بیر نہیں سوچتا منصوبہ نہیں بنا تا تو ایسا ہی ہے جیسے ایک خیال دل میں پیدا ہوا اور اس پر عمل نہیں ہوا اور وہ محض ضائع گیا اور اس کا کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچتا اس لئے جماعتوں کو تو اپنے طور پر منصوبے بنانے ہوں گے لیکن ہر فرد کا اپنا کام ہے کہ وہ بھی منصوبہ بنائے اور جب وہ منصوبے بنانے بیٹھے گا تو اس وقت اس کو سمجھ آئے گی کہ کیوں اب تک وہ دعوت الی اللہ میں کوئی نمایاں کارکردگی نہیں دکھا سکا۔بغیر منصوبے کے کوئی بات ڈھب سے چل ہی نہیں سکتی اور منصوبه Grass root Level پر بنانا چاہئے یعنی انفرادی سطح پر عوامی سطح پر ، ہر شخص کا اپنا منصوبہ بننا ضروری ہے یہ اس لئے ضروری ہے کہ اگر یہ منصوبہ نہ بنا ہو تو جماعتی اونچی سطح کے سارے منصوبے فرضی ہوں گے اور ان میں حقیقت نہیں ہو گی۔وہ لوگ جنہوں نے کام کرنے ہیں وہ بہتر جانتے ہیں کہ ان کی صلاحیتیں کیا ہیں، وہ بہتر جانتے ہیں کہ ان کے اخلاص کا مرتبہ کیا ہے وہ بہتر جانتے ہیں کہ وہ کتنا وقت دے سکتے ہیں اور کتنا علم ان کو حاصل ہے، کون کون سے ذرائع ان کے پاس ہیں، اگر عمومی منصوبے میں کچھ کام ان کے سپر د کر دیئے جائیں تو منصو بہ بنانے والے اگر لندن میں بیٹھے ہیں تو ان کو کیا پتا کہ لیسٹر میں فلاں گھر میں جو بچی ہے اس پر اس منصوبے کا اطلاق ہی نہیں ہوسکتا یا کسی اور ملک میں ملک کے ہیڈ کوارٹر میں بیٹھ کر ایک عظیم الشان منصو بہ بنایا جا رہا ہوتو وہ اس منصوبہ