خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 109 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 109

خطبات طاہر جلد ۱۱ 109 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء تدبیر ایسی ہے کہ اگر خدا خود کھول کر بیان نہ کرتا تو تمہیں معلوم نہ ہوتا۔اللہ تعالے اپنی بعض آیات خود کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تا کہ تم خدا تعالیٰ سے ملاقات کے دن کے بارہ میں یا خدا تعالیٰ سے ملاقات کے مضمون پر یقین حاصل کر سکو کیونکہ ان باتوں سے خدا تعالیٰ جو اپنے نشانات کھول کر بیان فرماتا ہے انسان کے دل میں ایمان بڑھتا ہے اور اس ہستی کی لقاء کی تمنا بھی پیدا ہوتی ہے۔اُمید بھی بندھتی ہے اور بالآخریقین بھی پیدا ہوجاتا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ ایک عام آدمی جس کا علم تھوڑا ہے یا عمر کے لحاظ سے بچہ ہے یا بہت بوڑھا ہے یا اپنے وسائل کے لحاظ سے بہت ہی محدود طاقتیں رکھتا ہے وہ کیسے منصوبہ بنائے منصوبہ بنانا تو فرض ہو گیا۔اگر خدا منصو بہ بناتا ہے تو خدا کے بندوں کو بھی محض گن کہہ کر کچھ حاصل نہیں ہو سکے گا۔خدا کے بندوں کا گن تو ان کا مصمم ارادہ ہوا کرتا ہے یہ عہد ہوتا ہے کہ ہم یہ کام ضرور کریں گے۔پس جب دعوت الی اللہ کی تحریک کی جاتی ہے تو ہزاروں لاکھوں احمدی ہیں جن کے دل میں گن کا لفظ اس طرح ظاہر نہیں ہوتا کہ گن کی شکل میں ظاہر ہو مگر نیک ارادوں کی صورت میں نیک تمناؤں کی صورت میں گن کا لفظ اُن کے دلوں میں اُٹھتا ہے ان کے ذہنوں پر چھا جاتا ہے اور وہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم نے بھی کچھ کرنا ہے اور آگے ہوتا کچھ نہیں۔کچھ دیر کے بعد یہ گن کی آواز دھیمی ہوتی ہوتی آہستہ آہستہ غائب ہو جاتی ہے اور نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلتا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے رب سے تخلیق کا طریق نہیں سیکھا۔گن کہہ کر خدا تعالیٰ معاملے کو وہیں ختم نہیں فرما دیتا بلکہ زمین و آسمان کی پیدائش کے سلسلہ میں بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تدبیر فرماتا ہے اور یہ ساری کائنات خدا کی تدبیر کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے جو تقدیر کے تابع ہے۔پس خدا کا بندہ کس طرح تدبیر سے مستغنی ہو سکتا ہے۔تدبیر کیا ہے اور کس طرح اختیار کرنی چاہئے اس سلسلہ میں اب آپ کو کچھ بتاؤں گا لیکن میں یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے فیصلے کے بعد تد بیر کا سلسلہ تقدیر اور تدبیر کا ایک تعلق قائم کرتا ہے اور تدبیر وہ وسیلہ ہے جو خالق کو مخلوق سے ملاتی ہے تدبیر نہ ہو تو خدا تعالیٰ کی تقدیر ہمارے تصور اور ادراک سے بہت بالا کہیں کام کرتی رہتی اور ہمیں اس کا علم نہ ہوتا یہ جو کائنات میں قوانین جاری ہیں یہ تدبیریں ہیں اور ان تدبیروں کے راستے ہم خدا کی تقدیر کو پہچانے لگتے ہیں گویا یہ پل کا سا کام دیتی ہے جو مخلوق کو خالق سے ملاتی ہے۔یہاں تقدیر پہلے ہے اور تدبیر بعد میں ہے۔جب انسانی سطح سے ہم