خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 108

خطبات طاہر جلد ۱۱ 108 خطبه جمعه ۱۴ / فروری ۱۹۹۲ء إِذَا زُلْزِلَتِ الْأَرْضُ زِلْزَالَهَا وَاَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا يَوْمَبِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَانُ بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَان (الزلزال : ۲ تا ۶) کہ ایک ایسا وقت آئے گا جبکہ زمین اپنے گہرے اور بھاری راز اگلنے لگے گی اور زلزلے کی سی کیفیت طاری ہوگی جس طرح زلزلے میں زمین لاوہ اگلتی ہے اور بہت ہی بڑی مقدار میں Heavy Metals کو بعض دفعہ لاوے کے ذریعے باہر نکالتی ہے اسی طرح زمین کے گہرے راز اور بھاری راز بھی ہیں۔فرمایا ایک ایسا وقت آئے گا گویا زمین پر زلزلہ طاری ہو جائے گا۔اَخْرَجَتِ الْأَرْضُ أَثْقَالَهَا۔اس وقت انسان کہے گا کہ یہ کیا ہو گیا ہے؟ کتنی حیرت انگیز دریافتیں ہورہی ہیں وَقَالَ الْإِنْسَانُ مَا لَهَا۔اس زمین کو کیا ہو گیا ہے یہ کیسی حرکتیں کر رہی ہے کیسی کیسی عجیب باتیں اور اپنے سینے کے راز اُگل کر ہمارے سامنے لا رہی ہے فرمایا۔يَوْمَبِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَانُ بِأَنَّ رَبَّكَ أَولى لما۔اس دن یہ زمین اپنے راز اگلے گی لیکن اتفاقا نہیں بِأَنَّ رَبَّكَ أَوْحَى لَهَا۔اس لئے کہ اے محمد یہ تیرے رب نے زمین پر یہ وحی نازل فرمائی ہے کہ جب خدا تعالیٰ اشارہ فرمائے تو اس وقت راز اگلنے لگو تو وہ سائنس دان اپنی تحقیق کے ماحصل کے نتیجہ میں مغرور ہو جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑے بڑے کھوج لگا لئے ہیں ، بہت سے راز معلوم کر لئے ہیں ان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے قرآن کریم نے پہلے ہی یہ راز ہم پر روشن فرما دیا تھا کہ آئندہ ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جبکہ سائنس دانوں کو خدا تعالیٰ اپنے فضل سے یہ تو فیق عطا فرمائے گا اور اگر خدا تعالیٰ یہ توفیق عطا نہ فرمائے تو کسی کی طاقت نہیں ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے مخفی رازوں کو معلوم کر سکے۔وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْ مِنْ عِلْمِةٍ إِلَّا بِمَا شَاءَ ( البقرہ:۲۵۶) کسی کی مجال نہیں ہے کہ اس کے علم میں سے ایک ذرے پر بھی احاطہ کر سکے مگر خدا کے اذن کے ساتھ ایسا ہوتا ہے یہ تو خیر ایک تمہیدی بیان تھا جو میں نے دیا ہے۔اصل مقصد آج اس آیت کو آپ کے سامنے پیش کرنے کا یہ ہے کہ آپ کو بتاؤں کہ اللہ تعالیٰ جو قادر مطلق ہے وہ بھی تدبیر فرماتا ہے اور بعض موقع پر وہ تدبیر مخفی رہتی ہے اور نظر نہیں آتی لیکن کام کر رہی ہوتی ہے چنانچہ آگے فرمایا کہ يُفَصِّلُ الْآیتِ یہ