خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 314
خطبات طاہر جلد ۱۱ 314 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء کے معاملہ میں جب بھی فیصلہ کا وقت آیا ان بدنصیبوں نے ہمیشہ نا انصافی سے کام لیا ہے۔تقویٰ کو چھوڑ دیا، قرآن کے انصاف کے اصولوں کو چھوڑ دیا ان کے حج ہوں یا غیر حج ہوں جب بھی فیصلہ کا وقت آیا ہے انہوں نے احمدی سے ہمیشہ نا انصافی کی ہے تو نا انصافی بتاتی ہے کہ کون مفسد ہے۔آزمائش کے وقت انصاف پر قائم ہو جانا اور بظاہر اپنے قریب کے خلاف فیصلہ دے دینا اور اپنے دور کے حق میں فیصلہ دے دینا یہ انصاف کا ایسا تقاضا ہے جس پر پورے اترے بغیر کوئی شخص منصف نہیں کہلا سکتا اور جو منصف نہ ہو وہ رحمت نہیں بن سکتا وہ ہمیشہ زحمت بنے گا کیونکہ عدل اور انصاف کے فقدان کا نام زحمت ہے اور عدل اور انصاف کے قیام کے بعد رحمت پیدا ہوتی ہے۔اس مضمون کو میں نے مختصر بیان کیا ہے تا کہ آپ اس کو خوب سمجھ لیں اس کو سمجھنے کے بعد ہر احمدی کا دل یقین سے بھر جاتا ہے کہ وہ یقینا مصلح ہے اور اس کے متعلق یہ اعلان نہیں کیا جاسکتا کہ وَلكِنْ لا يَشْعُرُونَ کہ ہیں تو مفسد لیکن وہ سمجھتے نہیں کیونکہ جو انصاف پر قائم ہو اس کو خدا تعالیٰ رحمت کی خوبیاں بھی عطا فرماتا ہے اور ایسے شخص کو مفسد کہا ہی نہیں جاسکتا یہ عقل کے خلاف بات ہے۔پس ان معنوں میں آپ اصلاح کی کوشش کریں۔اول تقاضا انصاف کا ہے، انصاف پر قائم ہوں پھر آپ کے اندر مصلح بننے کی صلاحیت پیدا ہوگی اور مصلح بنیں تو پہلے اپنوں کی طرف توجہ کریں کیونکہ جنہوں نے دنیا کی اصلاح کرنی ہے جب تک وہ اندرونی اصلاح نہ کریں وہ غیر کی اصلاح نہیں کر سکتے اور اصلاح کے وقت فساد کے بڑھنے کا انتظار نہ کریں بلکہ آثار سے پہچانیں کہ کہاں کہاں فساد کے احتمالات پیدا ہورہے ہیں۔ان خاندانوں تک پہنچیں، ان نو جوانوں تک پہنچیں ان بڑوں تک پہنچیں اور پیشتر اس سے کہ ان کا قدم اتنا آگے نکل جائے کہ آپ بھاگ کر بھی ان کو پکڑ نہ سکیں ان تک پہنچیں اور پیار کے ساتھ گھیر کر اُن کو واپس لے آئیں اس کے ساتھ ساتھ آپ غیروں کی اصلاح کی طرف توجہ کریں تو پھر اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ آپ کے حق میں ضرور پورا ہوگا کہ آپ کے فیض سے تو میں بچائی جائیں گی اس بات کی پرواہ نہ کریں کہ اگر قو میں بچتی ہیں تو ان کا کریڈٹ کس کو جاتا ہے۔دنیا میں جو تاریخ بن رہی ہے یہ دو طرح سے بن رہی ہے ایک تاریخ مہروں کی تاریخ ہے ایک پس پردہ ہاتھ کی تحریر ہے جو مہریں چلا رہا ہے اگر آپ مذہبی دنیا سے تاریخ کا مطالعہ کریں تو بالکل اور قسم کی تاریخ اُبھرتی ہے۔قرآن کریم نے جب یہ فرمایا کہ ہم نے عہد کیا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ جو کچے