خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 315
خطبات طاہر جلد ۱۱ 315 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء لوگ ہیں، جو مصلحین ہیں وہ خواہ تھوڑے بھی ہوں ان کو زمین کا وارث کیا جائے گا۔اس نقطہ نگاہ سے جب آپ تاریخ کو دیکھیں تو وہ تاریخ جو دنیا کے نقطہ نگاہ سے مورخین کی لکھی ہوئی تحریر ہے اسے آپ بالکل مختلف پائیں گے اور زمین و آسمان کا فرق ان دونوں تاریخوں میں نظر آئے گا۔ایک تاریخ کے علمی ثبوت آپ کے پاس نہ بھی ہوں مگر سارا عالم واقعاتی طور پر اس کے حق میں گواہی دے رہا ہے اور ایک تاریخ لکھنے والے ہیں جو ان حقائق کو کلیۂ نظر انداز کر کے ایک اور قسم کی تاریخ لکھتے ہیں اب مثال کے طور پر دیکھیں کہ جب آپ مصر کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں۔دنیا کے بڑے بڑے چوٹی کے علماء، مؤرخین نے بڑی محنت کر کے بہت کھوج لگا کر مصر کی تاریخ کو محفوظ کیا ہے اور مختلف زاویوں سے اس کا جائزہ لیا ہے اس تاریخ کے بنانے میں جو عوامل کارفرما تھے ان کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہے، اس کے جو نتائج نکلے ہیں ان کا مطالعہ کیا ہے، آپ یہ سارا کچھ پڑھ کر دیکھ لیں آپ کو بنی اسرائیل اور یہود کا اس تاریخ میں کوئی کردار دکھائی نہیں دے گا۔کہیں اشارۃ وہم کے طور پر مورخ لکھ دے گا کہ سُنا ہے کہ موسیٰ بھی اس زمانہ میں ہوا کرتا تھا سُنا ہے بنی اسرائیل بھی رہتے تھے ، یہود بھی تھے لیکن ہمارے پاس کوئی قطعی ثبوت نہیں ہے کہ فرعون ڈو با بھی تھا کہ نہیں اور اس کے ساتھ کیا بنا ؟ اور یہ بھی قطعی ثبوت نہیں ہے کہ موسیٰ“ کسی زمانے میں گزرا تھا اور پھر بعض مورخین لکھیں گے کہ یہ بھی قطعی ثبوت نہیں ہے کہ موسی" تھا بھی کہ نہیں تھا اور قرآن کریم کہہ رہا ہے کہ ہم نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے اور ہمیشہ سے یہی فیصلہ کارفرما ہوتا چلا آیا ہے کہ جو خدا کے نزدیک سچے رہنے کی اہلیت رکھتے ہیں اللہ ان کو وارث بنائے گا۔اب آپ مڑ کر دیکھیں کہ مصر اور اس کا سارا علاقہ کن لوگوں کے قبضہ میں دیا گیا۔بالآخر یہود تو موجود ہیں جو بطور وارث بڑے بڑے علاقوں میں حکومتیں کرتے رہے اور آج تک چلے آرہے ہیں لیکن فرعونیوں اور مصریوں کے دیگر ایسے طبقات جو اس وقت مصر کی سلطنت پر قابض تھے جن کا ذکر مؤرخ بڑی عزت اور احترام کے ساتھ کرتا ہے ان کے دبدبے بھی چلے گئے ان کی شوکتیں بھی مٹ گئیں وہ زیرزمین دفن ہو گئے۔وارث کون ہے؟ وارث یہود ہیں پھر عیسائیوں کو دیکھ لیں حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی تاریخ کے زمانہ کا مطالعہ کریں تو اکثر تاریخوں میں آپ کو عیسائیت کا کہیں نشان بھی نہیں ملے گا۔صلیب کے واقعہ کو گزرے ۳۴ سال ہو جاتے ہیں تو پہلی مرتبہ کہیں تاریخ