خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 313
خطبات طاہر جلدا 313 خطبہ جمعہ یکم مئی ۱۹۹۲ء کالوں اور گوروں اور سفیدوں اور سرخوں کی تفریق میں کسی قسم کی پارٹی بن سکیں آپ کے دل میں رحمت کا خیال موجزن رہے گا۔ہر بنی نوع انسان کے دُکھ کو دور کرنے کا سچا جذ بہ دل میں پیدا ہوگا۔ہر ایک کا پیار دل میں پیدا ہو گا اور رحمۃ للعالمین کے ساتھ انصاف کا گہراتعلق ہے۔ایک عالمی انصاف کے بغیر کوئی شخص کسی کے لئے رحمت بنایا ہی نہیں جاسکتا۔ان دونوں مضمونوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے لیکن اس تفصیل میں جانے کی نہ سر دست ضرورت ہے نہ موقع لیکن یا درکھیں کہ بین الاقوامی تعلقات میں یا بین المذاہب تعلقات میں جس شخص کو انصاف نصیب نہ ہو وہ رحمت نہیں بن سکتا لا ز ما آپ کو وسیع پیمانے پر انصاف کے سلوک کی اہلیت پیدا کرنی ہوگی اس کے بعد آپ رَحْمَةً لِلْعَلَمِینَ بنائے جائیں گے اس سے پہلے نہیں اور یہ دونوں چیزیں ایسی ہیں جن کی آج دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ایسی صورت میں جب آپ مُصْلِحُونَ کا کردار ادا کرتے ہیں تو اس کے نتیجہ میں حیرت انگیز انقلاب بر پا ہوگا اور اس گر کو سمجھنے کے بعد آپ کو سچے مصلح اور جھوٹے مصلح میں تفریق کی بھی سمجھ آ جائے گی۔قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ بہت سے مفسدین ہیں کہ جب ان کو کہا جائے کہ اصلاح کرو تو قَالُوا إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ (البقرہ :۱۲) وہ کہتے ہیں ہم تو بڑے مصلح ہیں ہم تو اصلاح کرنے کی غرض سے قائم ہوئے ہیں فرمایا أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُونَ وَلَكِنْ لا يَشْعُرُونَ ( البقرہ:۱۳) خبر دار یہی وہ مفسدین ہیں جن کا ہم ذکر کرتے چلے آرہے ہیں ان کے اندر فساد کی ساری باتیں موجود ہیں وَلكِن لَّا يَشْعُرُونَ لیکن بیوقوفوں کو شعور ہی نہیں ہے کہ وہ مفسد ہیں۔میں نے جو دو باتیں آپ کے سامنے بیان کی ہیں یہ شعور پیدا کرنے والی باتیں ہیں۔ان پر آپ غور کریں تو آپ کے اندر مفسد اور مصلح کی تفریق کا شعور پیدا ہو جائے گا۔یہ وہی مــفــســديــن ہیں جن پر آپ نظر ڈال کر دیکھ لیجئے کہ اصلاح کے نام پر نا انصافیاں کرتے ہیں۔اصلاح کے دعوے کر کے اپنے مخالفوں سے جن کے خلاف انہوں نے کئی بہانوں سے جدوجہد کے آغاز کئے ہوتے ہیں ان سے جب بھی انصاف کا معاملہ آئے نا انصافی کا سلوک کرتے ہیں۔یہ جماعت اسلامی دیکھ لیں مصلحین کا دعویٰ کرنے والے یہ مصلحین کی جماعت بنتی ہے۔پاکستان میں جماعت احمدیہ