خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 955
خطبات طاہر جلد ۱۰ 955 خطبہ جمعہ ۶ / دسمبر ۱۹۹۱ء ہفتہ رپورٹ لیا کرو اور بوجھ نہ ڈالو بلکہ ہلکے طریق پر پوچھ لیا کرو کہ کیا اس دفعہ کوئی تجربہ ہوا، کوئی کام ہوا کہ نہیں؟ اگر زیادہ بوجھ ڈالو گے، زیادہ مطالبے شروع کر دو گے تو وہ بھاگنا شروع ہو جائے گا تم سے اس لئے پیار محبت سے ہلکا ہلکا یاد دہانی کرواتے رہو اور اس کے کوائف کا ہر ہفتے اندراج کرو اور اس طرح ہر شخص پر باقاعدہ کھاتہ بننا چاہئے کہ اندراج کرنے کے بعد پھر ایک ایسا خانہ رکھو جس پر یہ درج کرو کہ ان معلومات سے میں نے کیا فائدہ اٹھایا ہے یا ان معلومات کو حاصل کرنے کے بعد شخص متعلقہ کو کیا فائدہ پہنچایا ہے؟ اگر یہ نہیں کرو گے تو پھر ان کاغذی اندراجات کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہو گی۔ایسے اندراجات سے دفتر کے دفتر سیاہ ہو جایا کرتے ہیں اور ایسے اندراجات فائلوں میں دب کر نظر سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔لکھنے والا سمجھتا ہے کہ میں نے فرض ادا کر دیا مگر اس فرض کی ادائیگی کا فائدہ کوئی نہیں پہنچتا۔پس مومن کے وقت کی بڑی قیمت ہے۔فضول کاموں سے اس کو بچنا چاہئے یعنی اپنے کاموں کو فضلول نہیں ہونے دینا چاہئے۔یہ بھی تو اس کا مطلب ہے۔پس ہر کام کی زیادہ سے زیادہ قیمت وصول کرنی چاہئے۔میرے ذہن میں جو نقشہ ہے وہ یہ ہے کہ مثلاً اگر میرے سپرد کئے جائیں چند دا عین الی اللہ۔میں ان سے ہر ہفتے رابطہ رکھوں گا ان سے پوچھوں گا کہ بتاؤ تم نے کیا کیا؟ کچھ نہیں کیا تو ان کو بعض مشورے دے دوں گا۔اچھا یہ کر کے دیکھ لیں، فلاں چیز آزمالیں۔یہ گا۔پوچھ لوں گا مثلا کہ آپ کے کوئی دوست آپ کے پاس آتے جاتے ہیں، ان کے پتے مجھے دے دیں میں ان کو کچھ لٹریچر بھجوادیتا ہوں۔ہوسکتا ہے آپ کے اور ان کے درمیان ایک شرم حائل ہولیکن جب میں بھیجوں گا تو وہ شرم ٹوٹ جائے گی وہ خود آپ سے پوچھنا شروع کر دیں گے۔یہ ایک مثال ہے ایسی اور بہت سی باتیں سوچی جاسکتی ہیں اور ہر شخص کے حالات کے مطابق الگ الگ بات ذہن میں آسکتی ہے۔تو پہلی بات تو یہ کہ رابطے کے معا بعد سیکرٹری کو یہ بتانا چاہئے کہ اسے اس رابطے کے نتیجے پر غور کرنا چاہئے۔اس کے اندراجات کرنے چاہئیں اور یہ سوچنا چاہئے کہ میں اب اس سے کیا فائدہ اٹھاؤں گا اور کس طرح کسی کو فائدہ پہنچاؤں گا۔پھر اس اندارج کے بعد اپنا لائحہ عمل درج کریں کہ فلاں دا عین الی اللہ ہے اس کی یہ رپورٹ ہے یا چند ہفتوں سے میں دیکھ رہا ہوں یہ حالت ہے۔میں یہ سمجھتا ہوں کہ اس طریق پر اسے عملاً بیدار کیا جا سکتا ہے اور فعال بنایا جا سکتا ہے۔پھر اس کا فرض