خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 952
خطبات طاہر جلد ۱۰ 952 خطبہ جمعہ ۶ / دسمبر ۱۹۹۱ء یہ خیال کر لینا کہ یہ روحانی پرندہ بن کر آسمان روحانیت پر پروازیں کرے گا یہ تو بالکل پاگلوں اور جاہلوں والی باتیں ہیں اس لئے حقیقت شناس بنیں۔ایسے اعلیٰ اخلاق کا نمونہ دکھا ئیں اگر شروع میں صبر نہیں تو جبراً ان اخلاق کو اختیار کریں کہ رفتہ رفتہ آپ کے اندر وہ صلاحیتیں بیدار ہو جائیں جن صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فر مارکھا ہے۔آپ کو عطا فرمائی ہوئی ہیں اور ہر شخص کو عطا فرمائی ہوئی ہیں۔سفر کے رُخ کی بات ہے۔اگر آپ نرمی اور رحمت اور شفقت کی سمت میں سفر اختیار کرنا شروع کریں گے تو رفتہ رفتہ یہ سفر آگے بڑھتا چلا جائے گا اور آپ کے اندر حیرت انگیز پاک تبدیلیاں پیدا کرتا چلا جائے گا۔آپ اپنوں کے بھی منظور نظر ہوتے چلے جائیں گے، غیروں کے بھی منظور نظر ہوتے چلے جائیں گے۔غیر آپ کو دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ آپ کو ان میں دلچسپی ہے۔اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ ان کی ذات کی خاطر اور جہاں تک آپ کے دل کی کیفیت ہو گی آپ یہ نہیں سمجھیں گے کہ آپ کسی پہ احسان کر رہے ہیں بلکہ آپ جانتے ہوں گے کہ آپ پر اپنی ذات پر یہ احسان ہے۔ماحول کا دکھ آپ کا دکھ ہے۔آپ کو چین نصیب ہی نہیں ہوسکتا اگر کوئی اور دکھ میں مبتلا ہے۔تو عجیب یہ رشتہ قائم ہوتا ہے جو مذہبی تعلیم کے سوا انسانی تصور سے بالا ہے۔یہ نہایت اعلیٰ درجے کی پاک تعلیم ہے جو قرآن کریم میں ملتی ہے جو حضرت محمد مصطفی ﷺ کے اسوہ کی صورت میں ہم پر ظاہر ہوئی ہے اور ہمارے دل و دماغ کو اس نے روشن کر دیا ہے۔نئے زاویوں سے ہمیں انسانیت کی تعلیم دی اور نئے زاویوں سے ہمیں انسانی خلق کو دیکھنے اور سمجھنے کی توفیق عطا فرمائی۔پس یہ رخ اختیار کریں یعنی اپنی خدا داد صلاحیتوں کو چمکانے اور میقل کرنے اور لطیف تر بنانے کا رخ اختیار کریں تو رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کو وہ مقام عطا ہو جائے گا جس کا میں ذکر کر رہا ہوں کہ جہاں دنیا آپ کو اس طرح دیکھے گی کہ آپ ان کے محسن اعظم ہیں اور آپ اس طرح دنیا کی طرف دیکھیں گے کہ گویا آپ نے کوئی احسان نہیں کیا بلکہ جو بھی احسان کر رہے ہیں اپنی ذات پر کر رہے ہیں اور اگر کوئی جزا ہل رہی ہے تو خدا کی طرف سے تحسین کی نظروں کی صورت میں مل رہی ہے۔یہ وہ اعلیٰ درجے کا مرتبہ ہے جس کے نتیجے میں ایک داعی الی اللہ کی آواز میں غیر معمولی طاقت پیدا ہو جاتی ہے، غیر معمولی کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ایسا شخص تھوڑی باتیں بھی کرے اس کے