خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 951 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 951

خطبات طاہر جلد ۱۰ 951 خطبہ جمعہ ۶ /دسمبر ۱۹۹۱ء صلاحیت ضرور بخشی ہے کہ لوگوں کے غموں کو اپنا لیں۔ماں بچے کے غم کو کیوں اپناتی ہے اگر اس کے اندر یہ صلاحیت نہ ہوتی۔باپ اپنی اولاد کے غم کو یعنی وہ باپ جو نرم دل رکھتے ہیں اپنی اولاد کے غم کو کیوں اپناتے ہیں؟ بعض بہن بھائی ایک دوسرے کے غم کو اتنا محسوس کرتے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے کہ کتنا گہرا قرب کا رشتہ ہے۔تو جب انسانی رشتوں میں یہ مثال سامنے آتی ہے تو صاف پتا چلتا ہے کہ ہر انسان کو فطرتا یہ صلاحیت ضرور عطا کی گئی ہے۔فرق صرف یہ ہے کہ رشتوں کے دائرے بڑھانے کی ضرورت ہے۔خونی رشتوں سے بڑھ کر باہر نکل کر انسانوں کے ساتھ تعلقات کو قائم کرنے اور اس سلسلے میں اپنے نفس کو تربیت دینے کی ضرورت ہے۔اس کے نتیجے میں رفتہ رفتہ انسان کی دبی ہوئی صلاحیتیں پھرا جا گر ہونے لگتی ہیں اور جو چیز فطر تا عطا ہوئی ہے لیکن غفلت کی وجہ سے وہ مٹ سی گئی ہے اس کے نقوش پھر خدا کے فضل ابھرنے لگتے ہیں اور انسان کے اندر رحمت کا جذبہ بڑھتا رہتا ہے۔ایسا شخص جو اس رحمت کے جذبے کو نظر انداز کر دیتا ہے وہ سخت دل ہونے لگ جاتا ہے۔یہاں تک کہ ایسے سفاک لوگ بھی دیکھے جاتے ہیں جو اپنے بچوں پر ظلم کرتے ہیں ، اپنی بیویوں کو نفرت کا نشانہ بناتے ہیں، اپنے گھر میں ایک جہنم بنا دیتے ہیں بجائے اس کے کہ وہ گھر رحمت اور تسکین کا موجب بنے ان گھروں میں ہر سینے میں آگ بھڑک رہی ہوتی ہے اور ایسے بعض بد نصیب لوگ احمد یوں میں بھی ابھی تک موجود ہیں۔بعض بچے مجھے خط لکھتے ہیں بڑے دردناک کہ ہمیں تو کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کہاں جائیں، کیا کریں؟ جو ماں کے ساتھ ہم نے بچپن سے ظلم ہوتے دیکھے اور پھر بڑے ہو کر ہماری طرف ان ظلموں کے رخ پھیرے گئے ، ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے کہ باپ ہوتا کیا ہے اور وہ کیسے باپ ہیں جو بچوں سے پیار کرتے ہیں، اپنی بیویوں کے حقوق ادا کرتے ہیں؟ شاذ شاذ خط اس مضمون کے بھی آتے ہیں اور میں حیران رہ جاتا ہوں کہ اس احمدیت کا کیا فائدہ جس احمدیت کے نتیجے میں ایک انسان انسان ہی نہ بن سکے۔اس کو وہم ہے کہ اس نے وقت کے مامور کو پہچانا اور قبول کیا کیونکہ جو شخص وقت کے مامور کو پہچانے اور قبول کرے اس کے اندر اتنی پاک تبدیلیاں لازما ہونی چاہئیں کہ وہ جانوروں سے انسان بننا شروع ہو جائے اور رفتہ رفتہ اس کے اخلاق ترقی کریں۔اگر یہ نہیں ہے تو پھر روحانیت کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔روحانیت کا مضمون تو بہت بعد کا مضمون ہے۔یہ لطیف فضاؤں کا مضمون ہے۔جو شخص زمین کی سطح پر بھی چلنا نہیں جانتا بلکہ ھنس رہا ہے بیچ میں اس کے متعلق