خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 950
خطبات طاہر جلد ۱۰ 950 خطبہ جمعہ ۶ / دسمبر ۱۹۹۱ء مضمون رکھتا ہے لیکن ظلوم کے لفظ سے پتا چلا کہ آنحضرت ﷺے دل کی شفقت اور رافت کے لحاظ سے ایک ایسے درجہ کمال کو پہنچے ہوئے تھے جہاں بہت کم انسانوں کی نظر پہنچتی ہے اور طبعاً اور فطرتاً آپ لوگوں پر ہونے والے ظلموں اور ستموں اور دکھوں کو از خود اپنالیا کرتے تھے اور اسی لئے آپ ان کے لئے غمزدہ رہتے تھے۔پس یہ وہ جذبہ ہے جو مبلغ کے لئے ضروری ہے اور کامیاب دعوت الی اللہ کے لئے لازم ہے کہ انسان اس قسم کا طرز عمل اختیار کرے۔پس طبعا اور فطرتا میں سمجھتا ہوں کہ ہر شخص کو خدا نے جذبہ دیا ہوا ہے لیکن یہ جذبہ بعضوں میں چمک جاتا ہے بعضوں میں چمکتا نہیں اور اگر اس جذبے کے تقاضوں کو آپ نظر انداز کرتے رہیں تو رفتہ رفتہ دل پتھر بنے لگتا ہے اور بعض دفعہ ایسے لوگ پھر پہچانے بھی نہیں جاتے۔آدمی یقین ہی نہیں کر سکتا کہ یہ وہ شخص ہے جس کو فطرتنا اللہ تعالیٰ نے رحمت اور رافت عطا فرمائی تھی کیونکہ بداعمالیوں کی وجہ سے بار بار جرائم کی وجہ سے دلوں پر زنگ لگنے لگ جاتے ہیں اور فطرت کی سچائی دنیا کے گردو غبار سے اٹ جاتی ہے۔پھر آہستہ آہستہ وہ گردو غبار کی تہیں جم جم کر سخت ہونے لگتی ہیں جس کو پنجابی میں کھرنڈ کہتے ہیں۔ایسے کھرنڈ آنے شروع ہو جاتے ہیں ان کے اوپر یعنی تمہیں جو آہستہ آہستہ سخت ہو جاتی ہیں، پھر وہ منجمد ہو جاتی ہیں، پھر وہ Fossilize ہو جاتی ہیں، پتھر سی بن جاتی ہیں۔انسان کی تھوڑی سی زندگی میں یہ سارے ادوار گزر جاتے ہیں اور بعض دفعہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بنی نوع انسان میں یہ جذبہ ہی نہیں ہے حالانکہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو اس لحاظ سے کوئی استثنائی چیز نہیں ملی تھی کہ آپ کو تو رحمت والا دل دے دیا اور سارے لوگوں کو بنی نوع انسان کو پتھر دل عطا کر دئیے یہ درست نہیں ہے۔اگر یہ بات ہوتی تو آنحضور ﷺ کا کوئی امتیاز نہ باقی رہتا۔پھر ہم یہ کہتے کہ خدا نے آپ کو تو دے دیا تھا نرم دل باقی لوگوں کو نہیں دیا اب اس میں لوگوں کا کیا قصور اور آپ کا کیا شرف؟ سب کو دل اپنی کیفیت کے لحاظ سے پیدائشی طور پر ایک ہی جیسے دل ملتے ہیں۔بعض لوگ ان دلوں کی خوبیوں کو چپکاتے ہیں، بعض ان خوبیوں پر مٹی ڈالنا شروع کر دیتے ہیں یہاں تک کہ خوبیاں مٹ جاتی ہیں اور غلط قسم کے پتھر دل جیسے نمودار ہو جاتے ہیں۔پس جماعت احمدیہ کو اس بات پر کامل یقین ہونا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے دل میں یہ