خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 949
خطبات طاہر جلد ۱۰ 949 خطبہ جمعہ ۶ / دسمبر ۱۹۹۱ء محسوس کریں گے گویا وہ کچلے جارہے ہیں۔اب حیرت سے انسان دیکھتا ہے کہ کیسے انہوں نے ایسے ایسے مشکل کام سنبھال لئے ، کیسے اتنے بڑے بڑے بوجھ انہوں نے اٹھا لئے مگر وہ نہیں جانتے کہ راز اس میں یہی ہے کہ وہ بوجھ ان کے ہوتے ہیں، ان کے اپنے بن جاتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کے اندر جو بوجھ اٹھانے کی صلاحیت موجود تھی اس کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا ہے۔اِنَّا عَرَضْنَا الْأَمَانَةَ عَلَى السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ وَالْجِبَالِ فَأَبَيْنَ اَنْ يَحْمِلْنَهَا وَأَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ إِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًان ( الاحزاب :۷۳) کہ دیکھو ہم نے ایک بہت بڑا بوجھ شریعت کا بوجھ ، ساری بنی نوع انسان کی ہدایت اور راہنمائی اور ان کو سنبھالنے کا بوجھ ، ان کے لئے ابدی نمونہ قائم کرنے کا بوجھ ، ان کے دکھ بانٹنے کا بوجھ، زمین، آسمان اور پہاڑوں کے سامنے رکھے کہ کون ہے جوان بوجھوں کو اٹھانے کے لئے آگے آتا ہے مگر ہر ایک نے انکار کر دیا۔اور یہ سارے ان بوجھوں کے تصور سے ڈر گئے اور خوفزدہ ہو گئے۔وَحَمَلَهَا الْإِنْسَانُ کون آگے آیا؟ محمد مصطفی ہے۔یہ انسان کامل تھا جو ان بوجھوں کو خوب شناخت کرنے کے بعد ان کو سمجھنے اور ان کی حقیقت سے آشنا ہونے کے بعد آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر آگے بڑھا اور ان بوجھوں کو اٹھا لیا۔کیوں ایسا ہوا؟ اِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا اس لئے کہ وہ اپنے نفس پر بہت ظلم کرنے والا تھا۔اور اپنے نفس پر ظلموں کے نتیجے میں وہ جھول بھی تھا یعنی اس کو پھر کوئی پرواہ نہیں تھی کہ کیا مجھ پر گزر جاتی ہے۔یہاں اس نفس کے ظلم کی بات ہو رہی ہے یہ وہی ظلم ہے جس کا میں رحمت کے سلسلے میں تعارف کروارہا ہوں۔جب انسان دوسروں کے غموں کو اپنا غم بنا لیتا ہے اور قطعاً بناتا ہے تو وہ سارے ظلم جو دنیا پر ہورہے ہیں اپنی جان پر کر رہا ہوتا ہے۔اسی کا نام ظَلُومًا ہے۔دوسروں پر ظلم کرنے والا نہیں بلکہ دوسروں کے ظلم خود پر جھیل لینے والا۔جو ظلم ساری دنیا کی طرف سے بعض مظلوموں پر توڑے جاتے ہیں ان ظلموں کا نشانہ اپنے وجود کو بنا لینے والا ، اپنے دل کو بنالینے والا یہ وہ ظَلُومًا ہے اور اس کے لئے چارہ ہی کوئی نہیں سوائے اس کے کہ آگے بڑھے اور ساری دنیا کے بوجھ اٹھائے کیونکہ وہ بوجھ پہلے ہی اس کا دل اٹھا چکا ہے۔تو شریعت کے مفہوم کے سوا بھی اس کے معنے ہیں۔شریعت کا بوجھ اٹھانا اپنے اندر ایک بڑا