خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 912
خطبات طاہر جلد ۱۰ 912 خطبہ جمعہ ۲۲ نومبر ۱۹۹۱ء سمجھایا ہے۔واجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَنَّا نَصِيرًا۔روحانی مراتب ہوں یا علمی مراتب ہوں یا دنیاوی کوششوں کے ذریعہ حاصل ہونے والے مراتب ہوں سب جگہ ایک سُلْطئًا نَّصِيرًا کی ضرورت ہے جو ہر شخص کو پیش آتی ہے۔انبیاء کو بھی پیش آتی ہے۔انبیاء کے روحانی مراتب کے لئے ان کو جبرائیل سُلْطنًا نَّصِيرًا کے طور پر عطا کیا جاتا ہے روح القدس عطا کی جاتی ہے اور دین کے دیگر مشاغل ہیں اور دیگر مقاصد کو پورا کرنے کے لئے فرشتوں کے علاوہ انسانی فرشتے بھی مہیا کئے جاتے ہیں اور ان کے لئے ابو بکر اور عمر اور عثمان و علی پیدا کئے جاتے ہیں۔تو آپ کو بھی سُلْطنًا نَّصِيرًا کی بہر حال ضرورت ہے اور سُلْطنًا نَصِيرًا اندرونی بھی ہوتا ہے اور بیرونی بھی۔اندرونی طور پر تو چند مثالیں میں نے دیں۔بیرونی طور پر خدا تعالیٰ غیروں کے دلوں میں بھی اپنے پاک بندوں کی مدد کے لئے تحریک فرما دیتا ہے اور اچانک ضرورت کے وقت ایسی جگہ سے مدد گار مہیا ہو جاتے ہیں جن کے متعلق انسان وہم وگمان بھی نہیں کر سکتا تو اس مضمون کو صرف دعا کے طور پر ادا نہیں کرنا بلکہ اس کی حکمت کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا ضروری ہے۔پس آپ جب کسی عہدیدار کو تیار کرتے ہیں تو رفتہ رفتہ اس کو سلطنا نصِيرًا مہیا کریں یا اس میں یہ صلاحیت پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ نوجوانوں میں سے بعض دفعہ ایسے بوڑھوں میں سے بھی بہت بڑے مدد گار مل جاتے ہیں جو ریٹائر ہو گئے ہیں ،اپنے کاموں سے فارغ ہو گئے ہیں اور ان کو زندگی کا کوئی اور مشغلہ در پیش نہیں اور اگر جماعت ان سے فائدہ نہ اٹھائے تو وہ ضائع ہوکر رفتہ رفتہ ایک بریکاری کی زندگی میں خدا کے حضور حاضر ہوں گے اور کوئی مومن پسند نہیں کرتا کہ یہ بے کاری کی حالت میں اپنے رب کے پاس جائے۔پس ایسے بوڑھے جو فارغ ہوں ان میں بعض دفعہ خدا تعالی یہ تحریک پیدا فرماتا ہے اور یہ بھی دعاؤں کے نتیجہ میں ہے کہ وہ اپنے آپ کو پیش کرتے ہیں تا کہ آخری سانس تک خدمت کا موقع ملے تو ان سے بھی فائدہ اٹھانا چاہئے۔سُلْطنًّا نَصِيرًا پیدا کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ان کے لئے بھی یہ نصرت ہے جن سے خدمت لی جاتی ہے اور سلطان نصیر کی یہ دعا دوطرفہ کام کرتی ہے کیونکہ وہ لوگ جن کو پہلے دین کی خدمت کی عادت نہیں جب رفتہ رفتہ ان سے خدمت لی جاتی ہے تو ان کے اندر سے ایک نیا شعور پیدا ہوتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں تو اب زندگی کا پتہ چلا ہے اس سے پہلے تو غفلت کی حالت میں وقت ضائع کیا اور ان کو زندگی کا لطف آنے