خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 911
خطبات طاہر جلد ۱۰ 911 خطبه جمعه ۲۲ /نومبر ۱۹۹۱ء اور ہم نے پہنچا دیے ہیں بلکہ آگے بڑھ کر یہ سوچنا کہ ان باتوں کو پہنچانے کا مقصد کیا ہے اگر ہمارے پاس Back of stock نہیں ہے۔اگر ہم دلچسپی پیدا ہونے کے نتیجہ میں ان کی طلب کو پورا نہیں کر سکتے تو ان معلومات کو مہیا کرنے کا کیا فائدہ؟ اس لئے طلب بیدار کرنا اور طلب کو پورا کرنے کے سامان مہیا کرنا یہ اس مخصوص نائب کا کام ہے جو سیکرٹری کے ساتھ اس کام کے لئے متعلق ہو۔اس کو مرکز سے بار بار خط و کتابت کرنی پڑے گی۔مرکز سے کر تو سکتا ہے لیکن اصل طریق یہ ہے کہ اپنے ہیڈ کوارٹر سے اپنے ملک کے متعلقہ شعبہ سے وہ تعلق قائم کرے اور جو ملک کا سیکرٹری ہے وہ مرکز سے براہ راست تعلق قائم کرے اور ان سے کہے کہ ہم نے یہ یہ معلومات مہیا کی ہیں۔فلاں فلاں کتب کے بارہ میں تعارف کرایا ہے۔ان کو استعمال کرنے کے ڈھنگ سکھائے ہیں اور ہمارے پاس صرف دو موجود ہیں۔اب طلب شروع ہوگی تو ہم کیا کریں گے اس لئے ہمیں اتنی ضرور بھجوا دیجئے۔اسی طرح رفتہ رفتہ ان کے لئے جگہیں بھی مہیا کرنی ہونگی۔کہاں کتا بیں رکھی جائیں کس طرح ان کو سلیقے سے رکھا جائے کہ وقت کے اوپر آسانی سے نکالا جا سکے۔کام شروع کیا جائے تو جتنا کام سمٹتا ہے اتنا آگے بھی بڑھتا ہے اور معاشرے اسی طرح ہمیشہ ارتقا پذیر ہوتے ہیں۔جتنا زیادہ آپ کام سمیٹنے کی کوشش کریں گے آپ فارغ نہیں ہوں گے بلکہ کام بڑھے گا اور کام بڑھے گا تو پھر آپ کو اور آدمیوں کی ضرورت ہوگی اسی لئے میں نے پہلے خطبہ میں ہی یا دوسرے میں یہ نصیحت کی تھی کہ ایک بہت اہم دعا قرآن کریم نے ہمیں سکھائی ہے اس کو ہرگز نہ بھولیں۔خود بھی کرتے رہیں اور اپنے نائبین کو یا متعلقہ عہدیداران کو بھی سمجھاتے رہیں کہ ربِّ اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِى مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطنًا نَّصِيرًا ( بنی اسرائیل : ۸۱ )۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا! ہم جب تیرے نزدیک اس لائق ہوں کہ اعلیٰ مرتبے تک پہنچیں اور تو ہمیں اس اعلیٰ مرتبے میں داخل فرما دے تو وہاں ٹھہرائے رکھنا تو مقصود نہیں ہے۔ہم تجھ سے یہی توقع رکھتے ہیں کہ تو مزیدا گلے درجے کی طرف ہمارے قدم بڑھائے گا اور ایک ہی مرتبے پر نہیں ٹھہرے رہیں گے۔اَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ کے ساتھ ہی یہ عرض کیا و أَخْرِجْنِی مُخْرَجَ صِدْقِ سچائی کے ساتھ اس مقام پر پہنچا اور سچائی کے ساتھ اس سے نکال لے اور ایک اور اعلیٰ مقام تک پہنچا دے اس کے لئے مددگار کی ضرورت ہے۔یہ وہ مضمون ہے جو قرآن کریم نے