خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 891
خطبات طاہر جلد ۱۰ 891 خطبہ جمعہ ۱۵/ نومبر ۱۹۹۱ء بھی سب جماعتوں میں پہنچائی گئی ہیں لیکن چونکہ اکثر ممالک پر اثر نہیں پڑا اس لئے میرا بھی تو یہ کام ہے کہ میں محاسبہ کروں اور دیکھوں کہ میرے اختیار کردہ ذرائع میں کیا نقص رہ گئے تھے اور دوبارہ میں پیش کروں تو کیا نئی بات پیدا کر کے پیش کروں کہ وہ باتیں جو پہلے پھل نہ لاسکی تھیں اب پھل لے آئیں۔یہ تو اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جماعت کی زمین بحیثیت مجموعی زرخیز ہے اور گزشتہ چند سالوں میں جماعت نے مجموعی حیثیت سے تبلیغ میں جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یہ فصیحتیں سب بے کار نہیں گئیں اور محنت ضائع نہیں گئی بلکہ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل کے ساتھ ان کوششوں کو پھل ضرور لگایا ہے لیکن کتنی زمینیں ایسی ہیں جنہوں نے بیج کو بڑھا کر واپس کیا ہے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے۔مجموعی طور پر اضافہ تو ہوا ہے اور غیر معمولی اضافہ ہوا ہے لیکن ہر جگہ نہیں ہوا۔بہت سے ایسے علاقے ہیں جو مثلاً ترقی یافتہ ہیں۔یورپ اور امریکہ اور اسی طرح کے ترقی یافتہ ممالک جاپان ہے اور ان ترقی یافتہ اور غیر ترقی یافتہ کے درمیان کے ممالک جو کچھ تیسری دنیا سے تعلق رکھتے ہیں، کچھ دوسری دنیا سے کچھ پہلی دنیا سے یعنی ان کے مختلف طبقات مختلف زمانوں میں بس رہے ہیں ان کے حالات کا بھی آپ جائزہ لیں تو آپ دیکھیں گے کہ اکثر ممالک میں ابھی تک ان ذرائع کے نتیجہ میں کوئی نمایاں کامیابی نہیں ہوئی لیکن جہاں ہوئی ہے ان کا میں نے جائزہ لیا ہے تو معلوم ہوا ہے کہ جہاں اخلاص اور محنت کے ساتھ امیر اور اس کے ساتھ شامل ٹیم نے واقعہ پوری لگن سے کام کیا ہے وہاں یہ بیان کردہ ذرائع کارگر ثابت ہوئے ہیں۔اس لئے ذرائع کو تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔بار باران کو یاد کرانے کی ضرورت ہے بار بار مختلف ذرائع استعمال کرنے کے طریق سمجھانے کی ضرورت ہے۔ان خامیوں پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے جن کے نتیجہ میں بعض دفعہ محنتیں بے کار چلی جاتی ہیں اور درخت ثمر دار نہیں ہوتے۔یہ جونشو ونما کا مضمون ہے یہ ساری کائنات کی ترقی کا خلاصہ ہے اور کائنات پر غور کرنے سے خواہ وہ زندگی کے وجود سے پہلے کی کائنات ہو یا زندگی کے وجود کے بعد کی کائنات ہو ، انسان کو بہت سے حکمتوں کے موتی ملتے ہیں اور انسان کو اپنی روحانی انفرادی اور جماعتی ترقی کے لئے بہت سے گر ہاتھ آتے ہیں۔پس ان سب مضامین پر غور کے نتیجہ میں جو باتیں اللہ تعالیٰ مجھے عطا فرما تا رہتا ہے مختلف مواقع پر میں انہیں بیان کرتارہا ہوں اور بلاشبہ بیسیوں گھنٹے کی وہ نصیحتیں ہیں جو مختلف کیسٹس