خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 890
خطبات طاہر جلد ۱۰ 890 خطبہ جمعہ ۱۵ نومبر ۱۹۹۱ء علیہ السلام کا یہ قول ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔اس کے مختلف معانی ہیں۔بہت ہی عارفانہ کلام ہے لیکن ایک معنی یہ بھی تو ہے کہ جو درخت پھل نہ دے وہ بنجر ہی کہلائے گا خواہ آپ اس کی کیسی ہی خدمت کریں۔کیسی اس کی آبیاری کریں۔دیکھنے میں وہ سرسبز وشاداب ہی کیوں نہ دکھائی دے لیکن اگر پھل سے عاری ہے تو وہ درخت کاٹے جانے کے لائق ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔پس اپنے تبلیغی کا موں کو حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ پھلوں سے جانچیں اور پھلوں سے جانچنے کے لئے ایک تو پھلوں کی مقدار، تعداد دیکھنی ضروری ہے۔اگر کوششیں بڑھتی چلی جارہی ہیں خرچ بڑھ رہے ہیں ، آپ محنت کر رہے ہیں ، ساری جماعت بظاہر مستعد دکھائی دیتی ہے، فائلوں کے منہ بھرے ہوئے ہیں، رپورٹوں میں صفحات کے صفحات تبلیغی کارروائیوں پر مشتمل ہیں لیکن جب نتیجہ تک پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہی گنتی کے چند آدمی جو پہلے تھے ویسے ہی اس سال بھی ہیں ویسے ہی اس سے پہلے تھے تو درخت کو پھل سے پہچاننے کی کیوں کوشش نہیں کرتے۔پس سب سے پہلا کام عہدیداران کا یہ ہے کہ اپنا اور اپنے کاموں کا اور طریق کار کا محاسبہ کریں اور بڑی گہری اور تفصیلی نظر سے دیکھیں کہ وہ اب تک کیا کیا ذرائع استعمال کر چکے ہیں اور کب سے وہ ذرائع استعمال کر رہے ہیں اور ان ذرائع کے نتیجہ میں کہیں کوئی پھل بھی لگا ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو ضروری نہیں کہ وہ ذرائع بریکار سمجھے جائیں بلکہ استعمال کرنے والوں پر بھی نظر کرنی پڑے گی اور بھی بہت سے ایسے اسباب ہیں جن کا ذرائع کے استعمال سے تعلق ہے اور ہر سطح پر یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جوان ذرائع کو استعمال کر رہا ہے وہ ذاتی طور پر خود کیسا؟ وہ دعا گو ہے بھی کہ نہیں اور اس کی ذاتی توجہ پورے اخلاص کے ساتھ اور انہماک کے ساتھ ان کاموں کی طرف ہے بھی کہ نہیں؟ پس ذرائع کی چھان بین ان کی جانچ پڑتال، ذرائع کو استعمال کرنے والوں کے حالات اور ان کی جانچ پڑتال پھر ان کی اپنی صلاحیتوں کا جائزہ اور یہ دیکھنا کہ ہر شخص اپنی صلاحیت کے مطابق ہتھیار استعمال کر رہا ہے کہ نہیں۔یہ ایک اتنا وسیع مضمون ہے کہ اسی پر اگر عہد یداران توجہ دیں تو ان کو معلوم ہوگا کہ یہ ایک دودن کی بات نہیں ہے۔مسلسل توجہ اور محنت کا تقاضا کرنے والا معاملہ ہے لیکن اس معاملہ میں میں کچھ باتیں مزید وضاحت سے رکھنی چاہتا ہوں کیونکہ اس قسم کی نصیحتیں میں بار ہا کر چکا ہوں اور و پیسٹس