خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 892 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 892

خطبات طاہر جلد ۱۰ 892 خطبہ جمعہ ۱۵/ نومبر ۱۹۹۱ء میں یا ویڈیوز وغیرہ میں محفوظ ہیں لیکن دیتی چلی جارہی ہیں۔باتیں کہی جاتی ہیں لیکن جماعت کی بھاری اکثریت کے سامنے وہ نہیں آتیں اور ان کے اندر جو نشو ونما کی صلاحیتیں ہیں انہیں تحریک نہیں ملتی۔اس لئے میں یہ زور دیتا رہا ہوں کہ جو عہدیداران ہیں وہ صرف اس بات پر اکتفانہ کریں کہ میری باتیں سمجھ کر آگے دوستوں تک پہنچائیں بلکہ یہ کوشش کریں کہ ان دبے ہوئے مضامین کو نکالیں اور حتی المقدور کوشش کریں کہ وہ احمدی احباب جو دعوت الی اللہ کا جذبہ رکھتے ہیں ان کو یہ چیزیں سُنائی جائیں۔مجلس عاملہ کے ممبران بھی سنیں اور بار بارسنیں کیونکہ سننے کے نتیجہ میں کچھ تو ان کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے نئے طریق کار معلوم ہوں گے اور کچھ ان کے اندر خود تحریک پیدا ہوگی۔ہر انسان جو ایک کام کا ارادہ کرتا ہے اور کسی مضمون کو پڑھتا ہے نئے علم کے نتیجہ میں اُسے روشنی کا احساس ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ مجھے روشنی مل گئی مگر یہ نہیں جانتا کہ روشنی کا سفر لامتناہی ہے۔ایک روشنی کے بعد آگے بھی روشنی ہوا کرتی ہے اس روشنی کے بعد پھر اور بھی روشنی ہوتی ہے۔وہ لوگ جو خوابوں میں جاگتے ہیں ان کو بھی جاگنے کا ایک احساس تو ضرور ملتا ہے اور وہ شعور حاصل کرتے ہیں کہ جا گنا اس کو کہتے ہیں لیکن جب سچ مچ جاگتے ہیں تو وہ کوئی اور قسم کا شعور ہوا کرتا ہے اور جاگنے کے بعد کچھ عرصے تک آنکھیں ملتے رہنے کے وقت جو جاگ کی کیفیت ہے وہ تبدیل ہو جاتی ہے۔جب پانی کے چھینٹے پڑتے ہیں اور مستعدی کے ساتھ انسان باہر آتا ہے۔پھر جب گھر سے نکل کر باہر دھوپ میں قدم اُٹھاتا ہے تو اس کی جاگنے کی کیفیت میں ایک نیا نور پیدا ہو جاتا ہے۔پھر روزمرہ کی زندگی میں حصہ لیتے ہوئے بہت سی باتیں غفلت کی حالت میں دیکھی جاتی ہیں اور جب انسان کو اندرونی طور پر جاگنے کی توفیق ملتی ہے تو ہر قدم پر اس کو ایک نئی روشنی محسوس ہوتی ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ اب میں جاگا ہوں اور جب انسان معرفت کے مزید درجے حاصل کرتا ہے تو بعض اوقات بڑے بڑے صوفیا نے آخر وقت یہی محسوس کیا کہ ہم جاگے ہی نہیں تھے بلکہ ایک نسبتی کیفیت تھی۔چنانچہ میر درد نے ایک شعر میں بڑی حسرت سے اس معرفت کا یوں اعلان کیا کہ وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا تو خواب اور افسانوں کی حقیقتیں فی ذاتہ تو یہ حقیقتیں نہیں ہیں لیکن اکثر ہماری حقیقتیں جن