خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 874
خطبات طاہر جلد ۱۰ 874 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۹۱ء قوانین جن حالات پر صادر ہوتے ہیں وہ حالات بھی تو بدلتے رہتے ہیں۔ان کی کیفیات مختلف ہیں کچھ حالات خدا کے ایک قانون کے تابع ہیں کچھ دوسرے قانون کے تابع ہیں۔پس ایسے لوگ جو بے صبری دکھاتے ہیں وہ بعض دفعہ اپنی ذات پر یا خدا کی ذات پر یہ بدظنی کر دیتے ہیں گویا ہماری دعاؤں میں کوئی اثر ہی نہیں یا خدا سنتا نہیں ان کو بعد میں شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔پس اپنی کیفیت کو درست کریں۔اللہ کی ذات پر کامل تو کل رکھیں۔دعا اس طرح کریں جیسا کہ دعا کرنے کا حق ہے اور صبر کو اختیار کریں اور اپنی طرف سے سب کچھ خدا کے حضور حاضر کر دیں۔پھر یا درکھیں کہ پھل پھول لانا اس کا کام ہے۔میاں محمد لکھو کے والوں کا یا مجھے یاد نہیں رہا کہ کن کا وہ پنجابی کا شعر ہے بہر حال کسی صوفی بزرگ کا ہے کہ مالی کا کام تو یہ ہے کہ وہ محنت کرے درخت لگائے اور پھر بھر بھر مشکیں ڈالے آگے مالک کا کام ہے پھل پھول لائے نہ لائے ، یہ اس کا کام ہے یہ مالی کے اختیار کی بات نہیں۔اس کے سپر د جو کام ہے وہ بہر حال کرے اور پھر باقی معاملہ خدا کے سپر د کر دے۔یہ تبلیغ کا وہ مضمون ہے جو دعا سے اور صبر سے تعلق رکھتا ہے۔اس ضمن میں میں ایک اور بات واضح کرنی چاہتا ہوں کہ خدا کے سپرد کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ ذمہ داری خدا پر پھینک دے اور جب یہ سوال پیدا ہو کہ تمہاری کوششوں کو پھل نہیں لگ رہے تو آدمی بڑی بیزاری سے یا بے تعلقی سے یہ کہہ دے کہ جی ! میں نے جو کرنا تھا کر لیا آگے اللہ کی مرضی یہی بات کہ اللہ کی مرضی اور اللہ کا اختیار ایک صوفیانہ جذ بہ عشق کے ساتھ بھی بیان کی جاتی ہے اور ایک نہایت گستاخانہ بے ہودہ طریق پر بھی بیان کی جاتی ہے۔بات ایک ہی ہوتی ہے مگر اس کے نتائج بالکل مختلف نکلتے ہیں۔وہ لوگ جو خدا کی عظمت کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی محبت میں پکھل کر یہ کہتے ہیں کہ وہ مالک ہے جب چاہے گا دے گا اور ہم اس کی رضا پر ہر حال میں راضی ہیں یہاں تک کہ وہ نہ بھی دے گا تب بھی راضی ہیں اس بات میں ایک غیر معمولی جذب پایا جاتا ہے جو اللہ کی رحمت کو جذب کرنے کے لئے بعض عظیم الشان کام دکھاتا ہے، بعض دفعہ بعض دعا ئیں اس اظہار کے نتیجہ میں مقبول ہو جاتی ہیں حالانکہ انسان کے دل کی کیفیت تو وہی رہتی ہے جو ہمیشہ سے ہے لیکن بعض دفعہ انسان ایک دکھے ہوئے دل کے ساتھ انتظار کرتے ہوئے کہ میری دعائیں قبول ہونگی ، ہونگی ، ہونگی آخر یہ سوچتا ہے کہ کیوں نہیں ہوئیں۔اس وقت دل بڑی پختگی کے ساتھ اس سارے مضمون پر