خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 875
خطبات طاہر جلد ۱۰ 875 خطبہ جمعہ ۸ / نومبر ۱۹۹۱ء غور کرتا ہے اور آخری نتیجہ یہ نکالتا ہے کہ میں راضی ہوں۔میرے اندر کوئی فتو نہیں ہے اور خدا کے حضور اپنے دل کی کیفیت اس طرح پیش کر دیتا ہے کہ اس وقت یہ بات دعا بن جاتی ہے اور عظیم الشان جذب کی طاقت رکھتی ہے یعنی اللہ کی رحمت کو جذب کرنے کی طاقت رکھتی ہے لیکن ایک بد تمیز آدمی جس کو کہا جائے کہ جی آپ کے سپرد یہ کام کیا تھایا آپ نے ابھی کام کیا نہیں تو وہ کہے کہ جی میں نے جو کرنا تھا کر دیا آگے نتیجہ نکالنا میرا کام نہیں۔یہ اللہ کا کام ہے۔اس بات میں بڑی سخت بد تمیزی اور گستاخی پائی جاتی ہے۔یعنی وہ سمجھتا ہے کہ میں نے تو پورا کامل کام کیا اس میں کوئی نقص نہیں چھوڑا اور نتیجہ نہیں نکلتا تو خداذ مہ دار ہے ، میں ذمہ دار نہیں ہوں۔یہ بالکل اور مضمون ہے۔اس مضمون سے ایسا بھاگیں جیسا کوڑھی سے بعض لوگ بھاگتے ہیں کیونکہ یہ انسان کو ہلاک کرنے والا مضمون ہے۔اس لئے مومن جہاں تو کل رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ میری دعا کو ضرور پھل لگے گا وہاں پھل میں دیر ہونے کی صورت میں اپنے عیوب تلاش کرتا ہے، اپنی کمزوریوں کی جانچ پڑتال کرتا ہے اور ہمیشہ یہی سمجھتا ہے کہ دعا کو تو ضرور پھل لگنا چاہئے۔اللہ کی رحمت اگر دیر سے آرہی ہے یا نہیں آرہی تو یہ تو شک والا معاملہ ہی نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ دعاؤں کو قبول فرماتا ہے اور اپنے بندوں کی سچی محنتوں کو قبول کرتا ہے۔آج نہیں تو کل اس کی رحمت ضرور نازل ہوگی لیکن یہ خطرہ بھی تو ہے کہ میرے کام میں نقص رہ گیا ہے، میری نیت میں فتور ہو گیا ہو۔میں نے اس بھونڈے انداز سے کام کیا ہو کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں وہ قابل قبول ہی نہ ہو۔اس پہلو سے جب انسان اپنے نفس کا جائزہ لیتا ہے تو حکمت کا ایک دوسرا باب کھل جاتا ہے اور حکمت ایک نئے مضمون کے ساتھ انسان پر روشن ہوتی ہے۔پھر انسان اپنی تبلیغی کوششوں کا جائزہ لیتا ہے۔یہ دیکھتا ہے کہ کس حد تک میں نے صحیح کام کیا کس حد تک مجھ میں نقائص ہیں، کہیں میرے اعمال کی کمزوری تو نہیں جو لوگوں کو مجھ سے دور بھگاتی ہے، کہیں میرے طرز بیان میں تو نقص نہیں کہ لوگوں کے دل میری طرف مائل ہونے کی بجائے وہ مجھ سے متنفر ہو جاتے ہیں، کہیں میں بے محل باتیں تو نہیں کرتا جس کے نتیجہ میں عام حالات میں کوئی بات سنتا بھی ہے تو میری بے موقع اور بے محل باتوں کے نتیجہ میں مجھ سے بد کتا اور دور بھاگتا ہے، کہیں میں ایسی بات تو نہیں کرتا جس میں صرف مجھے دلچسپی ہے اور دوسرے کو کوئی دلچسپی نہیں ہے۔کیا میں ایسی باتوں کی تلاش میں رہتا ہوں ، ایسے مواقع کی تلاش میں رہتا ہوں کہ جب ایک شخص کا دل کسی خاص مضمون کی