خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 872
خطبات طاہر جلد ۱۰ 872 خطبہ جمعہ ۸/نومبر ۱۹۹۱ء ان کو دھمکیاں دیتا ہے تو معا ان کی توجہ بھی دعا ہی کی طرف جاتی ہے اور خدا پر بھروسے کا ذکر کرتے ہیں غرضیکہ انبیاء کی جور وئید ادقرآن کریم میں جگہ جگہ پھیلی پڑی ہے اور انبیاء کے ماننے والوں کی جو باتیں بیان ہوئی ہیں ان میں سب سے زیادہ اہمیت ان کے خدا پر تو کل کو دی گئی اور خدا پر توکل کے نتیجے ہی میں اپنی جو دعائیں دل سے پھوٹی ہیں وہی کار گر ثابت ہوئیں اور انہی کے ذریعہ انقلاب عظیم برپا ہوا۔پس وہ کام اور وہ بظاہر بہت ہی مشکل کام جس کی طرف میں نے جماعت کو بلایا ہے وہ آسان ہو جائے گا اگر آپ بھی یہی ہتھیار استعمال کریں جو بارہا آزمائے جاچکے ہیں۔یہ ایسا نسخہ نہیں جو نیا ہو اور انوکھا ہواور پتہ نہیں کہ اس کے کیا نتائج مترتب ہوں گے بلکہ ایسا نسخہ ہے کہ جو ازل سے آج تک جب بھی استعمال ہوا ہمیشہ کارگر ثابت ہوا۔پس جب میں آپ سے یہ کہتا ہوں کہ ہمیں یہ دعا بھی کرنی چاہئے اور یہ جدو جہد بھی کرنی چاہئے اور خدا کے در سے یہ امید رکھنی چاہئے کہ ہم اپنی زندگیوں میں ایک کروڑ احمدی اور بنالیں اور ایک کروڑ ایسی روحیں خدا کی راہ میں اس کے قدموں میں ڈال دیں جو اس سے پہلے خدا سے برگشتی تھیں یا خدا سے اجنبی تھیں تو یہ اتنا بڑا کام نہیں جتنا بظا ہر دکھائی دیتا ہے کیونکہ دعاؤں کے نتیجہ میں بہت بڑے بڑے کام آسان ہو جایا کرتے ہیں، پہاڑٹل سکتے ہیں اور یہی وہ مضمون ہے جس کو حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا کہ اگر تم میں رائی برابر بھی ایمان ہوگا اور تم پہاڑوں کو اپنی طرف بلاؤ گے تو وہ تمہاری طرف آجائیں گے۔اس سے ظاہری پہاڑ مراد نہیں ہیں بلکہ وہ سرکش قو میں ہیں جو خدا کا پیغام سننے کے لئے تیار نہیں ان کو ایمان اور دعا کی دولت سے بلایا جاسکتا ہے۔بہر حال یہ وہ سب سے اہم ذریعہ تبلیغ ہے جس کی طرف جماعت کو جس سنجیدگی سے توجہ کرنی چاہئے اس سنجیدگی سے توجہ نہیں کر رہی۔میں اس لئے یہ بات یقین سے کہہ رہا ہوں کہ اگر اس سنجیدگی سے توجہ کی جاتی تو وہ نتیجہ ضرور نکلنا تھا جو پہلے نکلتا آیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے قوانین تبدیل نہیں ہوا کرتے۔قانون قدرت نے دیکھیں آپ کو یہ سکھایا کہ محنت کر کے زمین تیار کرو اور اس میں بیج ڈالوتو وہ پیج ضرور سبز کھیتوں کی شکل میں پھوٹے گا اور جتنا ڈالا ہے اس سے بہت زیادہ تمہیں واپس کرے گا۔یہ ایک ایسا قانون قدرت ہے جو سوائے استثنائی ابتلاؤں کے ہمیشہ کارگر ہوتا رہا ہے اور کبھی بھی یہ نسخہ نا کام نہیں ہوا۔پس یہ کیسے ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ روحانی دنیا میں ایک دستور جاری فرمائے ، یک