خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 871 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 871

خطبات طاہر جلد ۱۰ 871 خطبه جمعه ۱۸ نومبر ۱۹۹۱ء اچانک تو یہ دیکھے گا کہ وہ لوگ جو میری ہدایت کے مطابق حکمت اور موعظہ حسنہ وغیرہ سے تبلیغ کرتے ہیں اور صبر سے کام لیتے ہیں ان کی کوششیں ایک حیرت انگیز انقلاب برپا کر دیں گی۔فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ اچانک تو یہ دیکھے گا کہ وہ جو تیرے خون کا پیاسا تھا جو تیرا دشمن تھا وہ تیرا جانثار دوست بن چکا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے محض رسماً نام تبدیل نہیں کئے اور عقلاً قائل نہیں کیا بلکہ دل جیتے ہیں اور ایسے دل جیتے جو آپ پر فدا ہونے کے لئے تڑپتے رہے۔یہ وہ آخری مقصد ہے جو تبلیغ کا آخری مقصد ہے اور اس کے حصول کے لئے حضرت محمد اقدس مصطف امہ کا سب سے بڑا اور کارگر ہتھیار دعا تھی ہر قدم پر دعا فرمائی یہاں تک کہ جب آپ سب سے زیادہ مظلوم ہوئے اور دکھوں میں مبتلا کئے گئے تو اس وقت جبکہ بدعا کا وقت ہوتا ہے، اس وقت بھی آپ کے قلب مطہر سے اپنے دشمنوں کے لئے دعا نکلی اور دعا بھی ہدایت کی دعا نکلی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہی کی دعا ئیں تھیں جنہوں نے یہ انقلاب برپا کیا اور حکمت کا تقاضا بھی یہی تھا کہ جب دل دکھا ہوا ہوا اور بے اختیار بددعا ئیں پھوٹنے کو تیار ہوں تو اس وقت خدا تعالیٰ کی رحمت کو جوش میں لانے کے لئے انسان اپنے جذبات کو قربان کرتے ہوئے ظالموں کے حق میں ہدایت کی دعا کرے۔مظلوم کی دعا ضرور قبول ہوتی ہے لیکن مظلوم کی دعا جو اپنے دشمنوں کے خلاف ہونے کی بجائے ان کے حق میں ہواس کے جواب میں خدا تعالیٰ کے لئے قبولیت کے سوارہ کیا جاتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفیٰ نے تبلیغ کے سلسلے میں ہمیں حکمت کا سب سے پہلا اور سب سے بڑا اور سب سے اہم گر یہی سمجھایا کہ دعائیں کرو اور دعاؤں پر بھروسہ رکھو۔ہر حال میں دعائیں کرو اور دعاؤں کے ذریعہ تمہاری جنگ جیتی جائے گی۔یہ تمہارا سب سے طاقتور سب سے بڑا اور سب سے زیادہ قابل اعتماد ہتھیار ہے جس کے سوا خدا کی راہ میں کامیابی کے ساتھ دعوت نہیں دی جاسکتی۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت سی آیات کریمہ جن میں انبیاء اور دیگر بزرگوں کی تبلیغ کا ذکر ہے ان میں دعا کا مضمون سب جگہ شامل ہے۔حضرت موسیٰ“ جب فرعون سے محو گفتگو ہیں بار بار خدا کی طرف توجہ جاتی ہے۔خدا کے حوالے دیتے ہیں خدا پر توکل کی بات کرتے ہیں۔آپ کے وہ متبعین جنہوں نے اس مناظرے اور مقابلے کے وقت آپ کے نئے پیغام کو قبول کیا اور خدا اور حضرت موسی“ پر ایمان لائے جب فرعون