خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 81
خطبات طاہر جلد ۱۰ 81 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء خوب کھولوں اور پھر جہاں جہاں احمدی اس مسئلے کو سمجھ لیں وہاں پھر وہ اپنی طاقت کے مطابق آواز اٹھا ئیں اور ماحول کی سوچ اور آراء کو تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔اس مسئلے کا آغاز دراصل پچھلی صدی کے آخر پر ہو چکا تھا۔جو جنگ آج نظر آ رہی ہے اس کی جڑیں بہت گہری ہیں۔1897ء میں ایک صیہونی مقاصد کی کونسل قائم ہوئی جو یہود کے اس طبقے سے تعلق رکھتی تھی جو حضرت داؤد کی بادشاہت کے قائل ہیں اور یہ ایمان رکھتے ہیں کہ تمام دنیا پر ایک دن داؤ دی حکومت ضرور قائم ہو کر رہے گی۔ان کو صیہونی یا اسرائیلی کہا جاتا ہے۔صیہونیوں کی ایک ورلڈ کونسل قائم ہوئی اور اس نے اپنا ایک ڈیکلریشن ظاہر کیا۔اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔اسی سال یا اس سے کم و بیش کچھ آگے پیچھے کے عرصہ میں ایک یہودی Document یعنی مسودہ پہلی مرتبہ دنیا کے سامنے ظاہر ہوا جس کا نام تھا پروٹو کا لز آف ایلڈرز آف زائن Protocols) (of Elders of Zion یعنی زائن ، وہی زائن (Zion) جس کا میں ذکر کر رہا ہوں یعنی اسرائیلی حکومت ، زائن ازم کے قیام کا مظہر یہ لفظ زائن ہے۔زائن وہ پہاڑ ہے جس کے اوپر کہتے ہیں حضرت داؤد سے وعدہ کیا گیا تھا۔بہر حال جب زائن کہتے ہیں تو مراد اسرائیل ہے تو اسرائیل کے بڑے لوگ جو Zionism کے قائل ہیں ان کے چوٹی کے راہنماؤں کی سکیم کہ ہم کس طرح دنیا پر اپنے تسلط کو قائم کریں گے اور اس کے لئے لائحہ عمل کیا ہو گا کن اصولوں پر ہم کام کریں گے۔کیا ہمارے مقاصد ہوں گے۔کیا کیا طریق اختیار کئے جائیں گے وغیرہ وغیرہ یہ ایک چھوٹا سا رسالہ ہے جو مجھے اب تاریخ تو یاد نہیں لیکن یہ یقینی طور پر یاد ہے کہ انیسویں صدی کے آخر پر 1897ء کے لگ بھگ پہلی مرتبہ یہ Document ایک روسی عورت کے ہاتھ لگا جو دراصل ان Elders of zion ، جن کی یہ سکیم تھی ان کے سیکرٹری کے طور پر کام کر رہی تھی۔جرمنی میں یہ واقعہ ہوا ہے اور ان میں سے ایک کی دوست بھی تھی چنانچہ ایک دفعہ وہ رات کو اپنے دوست کے گھر اس کا انتظار کر رہی تھی اور اس کو دیر ہوگئی اس نے اس کی میز پر پڑی ہوئی کتابوں میں سے ایک مسوہ دیکھنے کے لئے ، دل بہلانے کے لئے چن لیا اور یہی وہ مسودہ ہے جس کا نام ہے Protocol Of Eleders Of Zion اس مسودے کو پڑھ کر وہ ایسی دہشت زدہ ہوئی اور اس میں دنیا کو فتح کرنے کا ایسا خوفناک منصوبہ تھا کہ وہ اس کو لے کر بھاگ گئی اور روس چلی گئی اور پہلی مرتبہ اس کتاب کو روس میں شائع کیا گیا پھر 1905ء