خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 80 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 80

خطبات طاہر جلد ۱۰ 80 خطبہ جمعہ یکم فروری ۱۹۹۱ء غرضانہ اور ظالمانہ جنگ ہے اور احمقانہ جنگ ہے کیونکہ ان کے نزدیک بھی اس کے نہایت ہی خوفناک بداثرات پیدا ہوں گے اور جنگ کے بعد کے حالات بہت زیادہ خطرناک ثابت ہوں گے۔بہر حال اس وقت میں اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہ مغربی مفکرین کیا کیا کہہ رہے ہیں۔خلاصہ دوسری آواز یہ ہے کہ یہ تیل کی جنگ ہے یہ مفادات کی جنگ ہے یہ اسرائیل کے دفاع کی جنگ ہے اسرائیلی مقاصد کو پورا کرنے کی جنگ ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ جنگ صدر بش کی اور صدر صدام کی جنگ ہے اور ان کے نزدیک صدر بش نے اس مسئلے کو اپنی ذاتی انا کا مسئلہ بنالیا ہے اور اب ان کی عقل اور ان کے جذبات ان کے قابو میں نہیں رہے۔جب وہ بات کرتے ہیں تو ایسے بے قابو ہو جاتے ہیں اور اس طرح بچوں کی طرح ایسے غلط محاورے استعمال کرتے ہیں کہ یہ لگتا ہی نہیں کہ کوئی عظیم قومی راہنما بات کر رہا ہے اس لئے وہ بڑے زور کے ساتھ اس مسلک کو پیش کرتے ہیں کہ یہ جنگ در اصل صدر بش کی جنگ ہے جو صدر صدام سے شدید نفرت کرتے ہیں اور انہوں نے امریکن تسلط کو قبول کرنے سے جو انکار کیا اور اس کے رعب میں آنے سے انکار کیا اس کے نتیجے میں غضب بھڑ کا ہوا ہے جو قا بو میں نہیں آ رہا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ اصل حقیقت کیا ہے کیونکہ جماعت احمدیہ کو تو جذباتی فیصلے نہیں کرنے چاہئیں اور چونکہ ہم نے صرف اپنی ہی فکر نہیں کرنی بلکہ سب دنیا کی فکر کرنی ہے۔کمزور اور چھوٹے اور بے طاقت ہونے کے باوجود کیونکہ ہم میں سے ہر ایک یہ یقین رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس دنیا کی سرداری یعنی خدمت کے رنگ میں ہمارے سپرد فرمائی ہے۔ہمیں اس دنیا کا قائد بنایا گیا ہے اور قائد کا معنی وہی ہے جو آنحضرت صلی ﷺ نے بیان فرمایا کہ سید القوم خادمهم ( الجہادلا بن المبارک کتاب الجہاد حدیث نمبر: ۲۰۷) کہ قوم کا سردار اس کا خادم ہوا کرتا ہے۔یعنی سردار اور خادم دراصل ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔اگر کوئی خدمت کرنا نہیں جانتا تو وہ سیادت کا حق نہیں رکھتا اور اگر وہ کوئی سیادت پا جاتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ خدمت کرے۔پس ان معنوں میں میں قائد ہونے کی بات کرتا ہوں اور کسی معنی میں نہیں۔پس ہم نے بنی نوع انسان کی خدمت کرنی ہے۔ان کو ان کے صحیح اور غلط کی تمیز سکھانی ہے اور ان کو سمجھانے کی کوشش کرنی ہے کہ تمام بنی نوع انسان کا مفاد کس بات میں ہے۔کس چیز میں ان کی بھلائی ہے کس چیز میں ان کی برائی ہے۔اس نقطہ نگاہ سے میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلے کو