خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 824 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 824

خطبات طاہر جلد ۱۰ 824 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء سکون میسر آنہیں سکتا جس کے ساتھ انسان اپنی تمام تر صلاحیتوں کو نیکی کی راہوں پر ڈال دے لیکن صرف ایک بدنصیبی نہیں اس کے علاوہ اور بھی بدنصیبیاں ہیں۔اگر بیرونی طاقتیں مسلمان طاقتوں کو سیاسی چپقلشوں میں نہ بھی الجھا ئیں اور انہیں امن بھی نصیب ہو تو بدنصیبی یہ ہے کہ اس امن کے دور کو وہ پھر اندرونی طور پر ایک دوسرے سے مذہبی اختلافات میں لڑ کر اپنی طاقتوں کو ضائع کر دیتی ہیں اور اس موقع کو ضائع کر دیتی ہیں جس میں خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ نیکی کی پرورش اور پنپنے کے وقت ہوتے ہیں۔امن کا دور ہمیشہ اچھی صلاحیتوں کے لئے ایک خوش نصیب دور ہوا کرتا ہے جس میں اچھی طاقتوں کے پہنے اور پھول پھلنے کا وقت ہوا کرتا ہے لیکن عالم اسلام کی حالیہ تاریخ پر آپ نظر ڈال کر دیکھیں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ جہاں امن بھی نصیب ہوا وہاں اس امن کو ہمیشہ اندرونی بدامنی میں تبدیل کر دیا گیا اور فرقہ بازیوں میں مبتلا ہو کر ایک دوسرے کے خلاف جدو جہد کرتے ہوئے اور سیاست میں بھی ہر قسم کے غلط حربے استعمال کرتے ہوئے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں اس امن کے دور کو ضائع کر دیا گیا اور بجائے استفادہ کے اور بھی زیادہ اس سے نقصان اٹھایا۔پس کسی پہلو سے بھی آپ عالم اسلام پر نگاہ ڈالیں تسلی کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی اور غیر طاقتیں جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بڑے عزم اور بڑے گہرے اور دیر پا منصوبوں کے ساتھ دوبارہ ساری دنیا پر بھی حملہ آور ہیں اور خصوصیت سے اسلام پر حملہ آور ہیں۔اس صورتحال میں جماعت احمدیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلام کے دفاع کا تمام تر بوجھ اپنے اوپر اٹھائے اور یہی وہ مقصد ہے جس کے لئے جماعت احمدیہ کو پیدا کیا گیا ہے۔جب میں مخالفانہ طاقتوں، ان کے منصوبوں اور ان کی صلاحیتوں کا جائزہ لیتا ہوں تو میں حیران رہ جاتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے کس کو کس کے مقابل پر ٹکرا دیا ہے، اتنی عظیم طاقتیں ہیں۔صرف دولت کے اعتبار سے ہی دیکھیں تو کروڑوں گنا زیادہ طاقتور قومیں ہیں، مقابل پر جماعت احمدیہ کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔اگر عددی اعتبار سے دیکھیں تو یہی صورت حال ہے، اگر سیاسی اثر ونفوذ کے لحاظ سے دیکھیں تو یہی صورت حال ہے کوئی ایسا پہلو جو مقابلوں میں کام آیا کرتا ہے ایسا نہیں جو جماعت احمدیہ کو ان کے اوپر فوقیت دیتا ہو پھر خدا تعالیٰ نے ہمیں اس غیر متوازن جنگ میں کیوں الجھا دیا اور کیوں ہم سے یہ توقع کی گئی کہ ہم اسلام کو تمام ادیان باطلہ پر بالآخر غالب کر کے دکھائیں گے؟