خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 825
خطبات طاہر جلد ۱۰ 825 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء اس مضمون پر جب آپ غور کریں تو دنیا میں سب سے بڑا تعجب انگیز واقعہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت تھی۔آپ سے یہ جد و جہد شروع ہوئی اور آپ ہی سے اس جہاد کا آغاز ہوا۔آپ ایک تھے جن کو مخاطب کر کے خدا نے فرمایا: صلى الله قُمْ فَانْذِرُ (المدثر :۳) اے محمد ﷺ اٹھ اور تمام دنیا کو انذار کر اورساری دنیا سے ٹکر لے میری خاطر اور میرے غلبے کے مقصد کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک جہاد کا اعلان کر دے اور وہ جہاد عالمگیر صلى الله جہاد تھا اور آنحضرت ﷺ اکیلے تھے۔پس سب سے زیادہ حیرت انگیز واقعہ تو ان دنوں کا واقعہ ہے جب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو اکیلے اٹھ کھڑے ہونے کا حکم دیا گیا اوراس حکم کے تابع تمام دنیا کی طاقتوں سے ہمیشہ ہمیش کے لئے ٹکر لینے کی ہدایت فرمائی گئی اور پھر اس جہاد کا آغاز ہوا جو ۴۰۰ سال سے جاری ہے۔گو مختلف وقتوں میں اس کی شکلیں بگڑتی بھی رہیں۔بنتی بھی رہیں دشمنوں اور مسلمانوں کے درمیان لڑائیوں میں پانسے بھی پلٹتے رہے۔کبھی یہ لڑائیاں مذہبی دنیا میں لڑی گئیں کبھی سیاسی دنیا میں لڑی گئیں۔مختلف حالات میں یہ جہاد مختلف صورتوں سے گزرتا ہوا جاری رہا اور آج بھی جاری ہے لیکن اس امر سے انکار ممکن نہیں کہ وہ سیاسی جنگیں بھی جو مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان ہوئیں ایک مذہبی عصر اپنے اندر رکھتی تھیں اور ان جنگوں کو بھی خالصہ سیاسی قرار نہیں دیا جاسکتا۔عیسائی قوموں کی دنیا میں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والی قوموں سے لڑائیاں ہوئی ہیں مگر سوائے ان لڑائیوں کے جو مسلمان قوموں سے کی گئیں کسی دوسری لڑائی کا نام صلیبی جنگ نہیں رکھا گیا اور اسلام پر جہاد کا الزام دھرنے والوں کا اپنا یہ حال تھا کہ کئی سو سال تک مسلمان ممالک پر باہر سے جا کر حملہ آور ہوئے ہیں اور ان جنگوں کا نام صلیبی جنگیں رکھا گیا۔پس اگر چہ وہ سیاسی جنگیں ہی تھیں کیونکہ علاقائی جنگیں تھیں ملکوں اور اقتدار پر قبضہ کرنے کی جنگیں تھیں لیکن ان کے اندر اسلام دشمنی کا ایک عصر بھی لازماً کارفرمارہا ہے۔آج جو صورتحال ہے یہ صورتحال اتنی نازک ہے اور اتنی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں پر تمام احمدیوں کا نظر رکھنا بہت ہی ضروری ہے اور اس سلسلہ میں وقتاً فوقتاً آپ کو بیدار کرنا میرے بنیادی فرائض میں داخل ہے۔جو شکل آج مجھے دکھائی دے رہی ہے ایسی خطرناک شکل ہے اس سے پہلے کبھی نظر نہیں آئی۔عیسائیت جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بڑے عزائم کے ساتھ اور نئے ارادے باندھ کر ، نئے منصوبوں کے ساتھ نئی دولتوں