خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 823
خطبات طاہر جلد ۱۰ 823 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء بعد جن کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے، یہ کوششیں ایک نئے عزم کے ساتھ بیدار ہوئی ہیں اور نئے منصوبوں کے ساتھ حکومتیں ان کوششوں میں شامل ہو چکی ہیں۔روس پر جس طرح عیسائیت نے یلغار شروع کی ہے وہ اس دور کا ایک اہم ترین واقعہ ہے۔بڑی تیزی اور کثرت کے ساتھ ہر جگہ عیسائیت کا جال پھیلایا جارہا ہے اور اسی طرح افریقہ پر عیسائیت نئے سرے سے نئے عزم کے ساتھ حملہ آور ہوئی ہے اور جو جو اطلاعات مجھے مل رہی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ خصوصاً ان دو واقعات یعنی گلف کی جنگ اور روس کا بالآخر اپنی شکست تسلیم کر لینے کے بعد عیسائیت میں ایک نئی رعونت پیدا ہوگئی ہے اور وہ عیسائی جو پہلے خاموش اور دبے ہوئے تھے وہ بڑی شدت کے ساتھ سراٹھا رہے ہیں اور دوبارہ بقیہ افریقہ پر حملہ آور ہورہے ہیں۔نائیجریا میں جو حالیہ فساد ہوئے ہیں یہ بھی اسی پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں۔جور پورٹیں مجھے نائیجریا سے ملی ہیں ان سے پتہ چلتا ہے کہ جن شمالی علاقوں میں فساد ہوئے ہیں وہاں اس سے پہلے عیسائیت کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ مسلمانوں سے ٹکر لے لیکن یہ جو عالمی واقعات رونما ہوئے ہیں اور خاص طور پر جب وہ امریکہ کو اپنی پشت پناہی پر دیکھتے ہیں تو ان کے اندر ایک نئی رعونت پیدا ہو چکی ہے۔انہیں نئی دولت کے سہارے مل چکے ہیں انہیں ہتھیار مہیا کئے جارہے ہیں اس لئے عیسائیت اسلام کے ساتھ اپنی آخری جنگ کے لئے ہر قسم کی تیاری کر کے میدان میں کو دچکی ہے۔جہاں تک عالم اسلام کا تعلق ہے بدقسمتی سے عالم اسلام کو یہی عیسائی طاقتیں آپس میں الجھا رہی ہیں اور الجھائے رکھ رہی ہیں۔کوئی ایسا زمانہ نہیں گزرتا جس میں بعض مسلمان طاقتوں کو بعض دوسری مسلمان طاقتوں کے خلاف کسی رنگ میں ابھارا نہ جارہا ہو اور کوئی ایسا زمانہ قریب میں دکھائی نہیں دیتا جس میں مسلمان طاقتیں پوری طرح امن کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اسلام کے فروغ کی کوششیں کر رہی ہوں۔کردوں کا مسئلہ ہے جس کا عراق سے بھی تعلق ہے،ترکی Turkey سے بھی تعلق ہے روس سے بھی تعلق ہے،سیریا Syria (شام) سے بھی تعلق ہے اس مسئلے کو پہلے عراق کے تعلق میں چھیڑا گیا اب ترکی کے تعلق میں اسے چھیڑا اور ابھارا جارہا ہے اور اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں جن کی تفصیل میں جانے کا وقت نہیں لیکن وہ لوگ جو ہوش مندی کے ساتھ خبروں کا مطالعہ کرتے ہیں ان پر یہ بات خوب روشن ہے کہ عالم اسلام کو وہ امن اور وہ