خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 814
خطبات طاہر جلد ۱۰ 814 خطبه جمعه ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۱ء بلجة ۱۱۵۰۰۵ ، سپین ۱۷۷۷ حیم ۱۰۶ پاؤنڈ اور باقی متفرق مما متفرق ممالک ہیں ۔ ان میں غانا خاص طور پر اس لئے قابل ذکر ہے کہ غانا کے اقتصادی حالات بہت ہی زیادہ خراب ہیں ۔اس کے باوجود افریقہ میں غانا سب سے آگے نکل گیا ہے اور ۱۲۳۲۹ پاؤنڈ کا غانا کا وعدہ ہے اس کے برعکس نائیجریا جس کو اللہ تعالیٰ نے غانا کے مقابل پر بہت زیادہ دولت عطا فرمائی ہے اور انفرادی طور پر بھی خدا کے فضل سے بہت اچھے کھاتے پیتے احمدی موجود ہیں ان کا وعدہ صرف ایک ہزار ۳۷ پاؤنڈ کا ہے ۔ تو اس میں یہ اندازہ تو نہیں لگایا سکتا۔ یہ جائز نہیں ہو گا کہ یہ کہا جائے کہ نائیجریا کے احمدی اخلاص میں بہت پیچھے ہیں کیونکہ میرا ذاتی علم ہے کہ خدا کے فضل سے یہ بہت ہی مخلص جماعت ہے اگر چہ سخاوت کے لحاظ سے غانین مزاج باقی افریقہ کے مقابل پر بہت اونچا ہے۔ غانین لوگوں میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی توفیق سے بڑھ کر خرچ کرنے کا خدا تعالیٰ نے ایک ایسا ملکہ ودیعت فرمایا ہے اور ان کو اللہ تعالیٰ نے ایک ایسا فطری رجحان عطا فرمایا ہے کہ جس کی وجہ سے غانین اس پہلو سے باقی افریقنوں کے مقابل پر جو خود بھی بڑے اچھے ہیں نمایاں طور پر بڑھا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس کو پیش نظر رکھ کر بھی میں سمجھتا ہوں کہ ضرور اس میں کوئی غلطی ہوئی ہے۔ غانا کا اخلاص اپنی جگہ مگر نائیجریا اتنا پیچھے رہ نہیں سکتا ۔ ناممکن ہے ۔ نظام جماعت کی کوئی کمزوری ہے۔ وہاں جس شخص کے بھی سپرد یہ کام ہے ، امیر کو چاہئے کہ خود بھی متوجہ ہوں اور ان کو بھی متوجہ کریں اور ازسرنو نائیجریا میں اس چندے کی تحریک ہونی چاہئے اور بھی اسی قسم کے بعض غیر متوازن وعدے ہیں جو ملکی حالات اور اقتصادی حالات کے پیش نظر تعجب انگیز ہیں۔ میں ان کی تفصیل میں نہیں جاتا لیکن بہت سے ایسے غریب ممالک ہیں جنہوں نے خدا کے فضل سے اپنی توفیق سے بہت بڑھ کر وعدے کئے ہیں توفیق تو خدا بڑھا ہی دیا کرتا ہے مطلب یہ ہے کہ ظاہری حالات میں جس اقتصادی بحران سے ممالک گزر رہے ہیں اس کے باوجود خدا کے فضل سے مالی قربانی میں پیچھے نہیں ہیں اور بعض ممالک تو بہت چھوٹے چھوٹے ہونے کے باوجود اپنے چندوں میں بہت آگے ہیں ۔ ان سب کے نام یہ فہرستیں بھجوا دی جائیں گی تا کہ وہ خود مواز نہ بھی کر سکیں ۔ صرف ان کے کوائف نہیں دیئے جائیں گے بلکہ ساری دنیا کے کوائف کا جو خلاصہ ہے وہ ساری دنیا کی جماعتوں کو بھجوا دیا جائے گا تو امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ اس کے پیش نظر وعدے بھی بڑھیں گے اور چندوں کی ادائیگی میں بھی بہتری ہوگی ۔