خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 796 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 796

خطبات طاہر جلد ۱۰ 796 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء پر بعض صوبوں کے وزراء اعلیٰ مرکز سے صوبے کو ٹکر انے کی خاطر ان کی تائید میں باتیں کرتے ہیں۔ہاں میں ہاں ملاتے ہیں، فتنے پیدا ہو جاتے ہیں اور بعد میں وہ مرکز سے کہتے ہیں کہ آؤ جی ! ان سے نیٹو۔یہ ان کے جائز اعتراضات ہیں یا شکایات ہیں ان کو آکر سمجھاؤ ہم تو بیچ میں ایک طرف بیٹھے ہیں۔ایک طرف بیٹھنے کا مطلب کیا ہے۔جس شخص کی جماعت میں لمبی تربیت ہوئی ہو جس کو نظام جماعت کا بھی تجربہ ہو، لمبا عرصہ سلسلہ نے اس پر محنت کی ہو اس کو اتنا نہیں پتا کہ جماعت کا مالی نظام ہے کیا اور جماعت کا مجلس شوری کا کیا نظام ہے اور جماعت کا تنظیمی ڈھانچہ کیا ہے۔کس طرح یہ باتیں چلتی ہیں اور لاعلمی کا عذر تو قابل قبول ہی نہیں کیونکہ اتنی بار خطبات میں میں ان باتوں پر روشنی ڈال چکا ہوں کہ لاعلمی سے مرا دسوائے اس کے کہ جہالت ہو اور کچھ نہیں کہا جاسکتا اور جہالت کا معنی کیا ہے وہ میں آگے جا کر مزید آپ کے سامنے کھولتا ہوں۔ان معاملات میں لاعلمی کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوسکتا کیونکہ جس چیز سے کھیلا جا رہا ہے اس کی حرمت میرے نزدیک بہت بڑی ہے اور میں ہرگز برداشت نہیں کر سکتا کہ جماعت کے مقدس عالمی نظام کو کسی طرح بھی آنچ پہنچنے دوں۔عالمی نظام خواہ مالی ہو یا انتظامی ہو۔دونوں جگہ مقدس ہے اور کسی حماقت کو یہ اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ ان معاملوں میں فتنے برپا کرے۔اب صورت حال یہ بنتی تھی کہ مالمو کے متلعق دوسال سے ایک کیس Build ہو رہا ہے اور یہ اثر ڈالا کہ ساری جماعت اس میں شامل ہے ، ساری مجلس عاملہ شامل ہے کیونکہ ان کی تائید کی ہوائیں ہیں۔آواز یہ اٹھ رہی ہے کہ آپ کی خاطر ، آپ کے حقوق کی خاطر یہ باتیں ہورہی ہیں اور مجھ سے اس بات کو مخفی رکھا جا رہا ہے حالانکہ یہ سارے جانتے ہیں اور بار بار میں بتا چکا ہوں کہ اگر کسی جگہ کسی احمدی کے دل میں خواہ وہ مجلس عاملہ کا نمبر ہے یا نہیں، عہد یدار ہے یا نہیں ، سلسلے کا مالی نظام یا کسی اور معاملہ میں کوئی شکایت ہو تو اس کا حق ہے اور بعض جگہ فرض بن جاتا ہے کہ وہ بلا تاخیر مجھے اس کی اطلاع کرے لیکن طریق کار یہ ہے کہ دستور کے مطابق جو چینل بنی ہوئی ہے جو رستہ بنا ہوا ہے وہ اس کو اختیار کرے۔مثلا اگر مقامی امیر کے خلاف شکایت ہے تو مقامی امیر کی وساطت سے اطلاع آنی چاہئے اور اگر کسی عہدیدار کے خلاف شکایت ہے تو اس کی وساطت سے آنی چاہئے ،اگر مرکزی امیر سے شکایت ہوتو اس کی وساطت سے آنی چاہئے لیکن ساتھ ہی بار بار میں یہ بات کھول چکا ہوں کہ