خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 797
خطبات طاہر جلد ۱۰ 797 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء اگر آپ کو گھبراہٹ ہو، یہ وہم ہو کہ آپ کی شکایت پر کوئی بیٹھ رہے گا تو اس کی نقل براہ راست مجھے بھجوادیجئے نقل بھجوانے میں کوئی حرج نہیں۔پھر میں دیکھوں گا کہ کس حد تک زیادتی ہوئی ہے یا نہیں ہوئی اور جماعت کا جو مالی نظام ہے یہ تو ایسا ٹھوس اور مضبوط اور سقم سے پاک نظام ہے کہ کبھی کسی افریقن ایشیائی ملک میں ایسا فتنہ نہیں پیدا ہوا۔یورپ میں اس ملک کے سوا کہیں یہ فتنہ پیدا نہیں ہوا جماعت جرمنی بھی ہے۔بہت بڑے بجٹ ہیں ان کا بجٹ تو اس کا بیسواں حصہ بھی نہیں بنتا بلکہ اس سے بھی بہت کم ہوگا لیکن بڑی بڑی جماعتیں مختلف جگہ اکٹھے گچھوں کی صورت میں موجود ہیں۔فرینکفرٹ میں مرکز ہے اور ہمبرگ میں جماعتوں کا ایک بہت بڑا مجموعہ ہے جس طرح ستاروں کا جھرمٹ ہوتا ہے اسی طرح وہاں اکٹھی ہوئی ہوئی جماعتیں ہیں۔اسی طرح ساؤتھ میں ہائیڈل برگ اور اس سے نیچے میونخ کی طرف یہاں بھی کئی جگہ جماعتوں کے گچھے ہیں کبھی کسی فرد جماعت نے یا جماعت نے یہ نہیں کہا کہ جی ! فرینکفرٹ پر خرچ ہورہا ہے اور ہماری متناسب نمائندگی ہونی چاہئے اور ہمیں اس کے حقوق ملنے چاہئیں۔ایک اور فرق جو جر منی کی جماعت اور اس جماعت میں ہے وہ یہ ہے کہ جب میں نے جرمنی کی جماعت کے ساتھ ناراضگی کا اظہار کیا تو ساری جماعت نے بلا استثناء فورا بات کو سمجھا اور ایک زبان ہوکر ان باتوں سے نہ صرف بیزاری کا اظہار کیا بلکہ کامل طور پر آئندہ اپنے خلوص، اپنی وفا اور امارت سے اپنی وابستگی کے متعلق مجھے یقین دلائے۔یہاں تک کہ جن باپوں کے متعلق شکایت تھی ان کے بیٹے گھروں کو لوٹے تو انہوں نے کہا کہ آپ ہمارے باپ ہیں لیکن جو خلیفہ وقت کہہ رہا ہے وہ بالکل سچی بات ہے آپ کا قصور ہے۔بیویوں نے خاوندوں پر یہ بات واضح کر دی کہ آپ کے حقوق اپنی جگہ لیکن جہاں تک نظام جماعت کا تعلق ہے آپ کی غلطی ہے تو آپ اس کو بھگتیں گے اور اس معاملے میں ہمیں اپنے ساتھ نہیں پائیں گے۔۲۰۱۵ ہزار کی جماعت ہے ایک واقعہ بھی نہیں ہوا کہ جس میں ادنی سی بھی بھی پائی گئی ہو اور جب لوگ کہتے ہیں کہ تم جرمنی کی جماعت کی محبت کی باتیں کرتے ہیں تو کیوں نہ کروں جو مسیح موعود کی جماعت سے محبت رکھتا ہے میں اس سے محبت کروں گا یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ جو اسلام اور مسیح موعود کی مقدس جماعت سے پیار کرنے والا ہو میرے دل میں اس کی قدر نہ ہو لیکن اس جماعت کی بدنصیبی کہ ۱۵ دن سے سمجھا رہا ہوں اور بار بار یہ اصرار ہے کہ ہم سے تو