خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 795 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 795

خطبات طاہر جلد ۱۰ 795 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء گوٹن برگ کے لئے تو میں نے ان کو بتایا کہ آپ کچھ عقل سے کام لیں۔میرا دورہ اتنا مصروف ہے کہ صبح سے رات تک میں چکر میں ہوں اور چند منٹ نہیں ملتے سکون سے الگ بیٹھنے کے۔آپ کے ساتھ جماعتی خدمت کے جتنے کام ہیں میں حاضر ہوں۔سوال و جواب میں مجھے بٹھا ئیں۔ملاقاتیں کروائیں سب کچھ کے لئے حاضر ہوں لیکن چند منٹ گھر میں الگ بیٹھنے دیں تا کہ تھوڑ اسا سکون ملے دوسرے دن پھر صبح صبح سفر کرنا ہے تو اس پر انہوں نے بات تسلیم کرلی اور اس وجہ سے میں نے معذرت کی۔جب میں مالمو پہنچا ہوں تو صبح 9 بجے سے سفر شروع کیا ہوا ۴ بجے ہم وہاں پہنچے ہیں اور چونکہ ایسی غلط نہی ہوگئی تھی کہ ہمیں مشن کا کوئی پتہ نہیں لگ رہا تھا کہ کدھر ہے اور اس طرح ہمیں دیر ہوگئی۔جاتے ہی بغیر کسی اور آرام یا وقت کے ضیاع کے نماز کے لئے واپس آیا ہوں ، نماز کے معا بعد ان سے ملاقاتیں کی ہیں جتنی ملاقاتیں انہوں نے رکھی تھیں سوائے ایک کے جس سے میں جماعتی طور پر ناراض تھا اور ملنا نہیں چاہتا تھا۔باقی سب سے ملاقات کی۔پھر مجلس سوال و جواب کیلئے نیچے آیا۔پھر خواتیں کو ان کی مجلس سوال و جواب کا الگ وقت دیا اور جب تک یہ سارا سلسلہ ختم نہیں ہو گیا اس وقت تک میں ان کے ساتھ بیٹھا رہا پھر نمازیں پڑھیں اور پھر میں اوپر آیا ہوں۔اس پر اعتراض یہ کہ مل کر کھانا نہیں کھایا اور اس کے لئے مجھے تو براہ راست کوس نہیں سکتے تھے اسی کو فتنے کا بہانہ بنالیا۔کہ امیر نے ایسا کیا ہوگا اور نہ وہاں مجھ سے پوچھا نہ بعد میں امیر سے پوچھا۔یہ ٹیڑھی سوچ ایک دن کی سوچ نہیں ہے یہ لمبے عرصے سے پلتی چلی آرہی ہے۔جب میں نے تحقیق کی اور پوری طرح چھان بین کی تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔ایک تو حد سے زیادہ دونوں اشخاص کی عقل کا بحران ہے اگر اور کچھ نہیں تو ان فتنوں پر بیٹھے ہوتے ہیں اور مطلع نہیں کر رہے۔پتا ہے کہ جماعت کے عالمی نظام کے تقدس کے خلاف باتیں ہیں۔سلسلے کی ساری مالی روایات میں کبھی ایسی فتنے نہیں ہوئے نہ کبھی مجالس عاملہ کو اس رنگ میں تشکیل دیا گیا ہے کہ کسی ریجن کی کتنی نمائندگی ہوتی ہے لیکن بڑے آرام سے بیٹھے ہوئے ہیں کہ کوئی واقعہ ہی نہیں ہو رہا جب پوچھا گیا کہ کیوں جناب! آپ جو مقامی امیر صاحب ہیں آپ کی آنکھوں کے نیچے یہ باتیں ہو رہی ہیں آپ کس مرض کی دوا تھے تو جواب دیا گیا کہ میں تو اس معاملہ کو آگے امیر صاحب کے سپرد کر دیا کرتا تھا اور کہا تھا آپ جانیں اور یہ لوگ جانیں۔آئیں اور ان کو سمجھا ئیں حیرت انگیز بات ہے۔یہ تو بالکل ویسی بات لگتی ہے جیسے بعض دفعہ سیاسی طور