خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 780
خطبات طاہر جلد ۱۰ 780 خطبه جمعه ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء مرہ کی کوئی بات ہے کوئی شرم وحیا کی بات ہی نہیں رہی ۔ کرپشن سر سے پاؤں کے ناخنوں تک پہنچ گئی ہے۔ کوئی زندگی کا ایسا شعبہ نہیں جہاں بد دیانتی کے بغیر کام چل سکے اور بے حیائی ایسی کہ دیکھیں سب کہتے ہیں الحمد للہ اسلام آ رہا ہے۔ اللہ کا بڑا احسان ہے کہ ہم اسلام کے قریب تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ کہاں اسلام کے قریب ہو رہے ہیں؟ کسی نے کبھی نہیں سوچا۔ اگر یہ ساری بد بختی اسلام ہے تو نعوذ باللہ من ذالک اس اسلام سے تو دوری بہتر ہے لیکن خدا گواہ ہے کہ یہ اسلام نہیں یہ بد بختیاں تمہاری شامت اعمال ہیں۔ تم نے جو احمدیوں پر مظالم کر کے اسلام سے دوری اختیار کی ہے یہ اس کی سزا ہے۔ ورنہ اسلام کے قرب کی تو خدا سزا نہیں دیا کرتا۔ اسلام سے قرب کی تو جزاء ہوتی ہے۔ پس یہ ساری وہ مصیبتیں جو تم پر نازل ہو رہی ہیں تمہیں کون سمجھائے اور اور کیسے سمجھائے کہ اسلام سے قرب کے نتیجے میں نہیں بلکہ اسلام سے دوری کے نتیجے میں ہیں، اسلام کے بنیادی حسین ، منصفانہ قوانین کو تم نے بالائے طاق رکھ دیا بلکہ بھاڑ میں جھونک دیا اور کبھی تمہارے دل میں ادنی سی بھی ضمیر میں ادنی سا بھی چونکا نہیں دیا ضمیر کی ادنی سی کسک بھی تم نے اپنے دل میں محسوس نہیں کی کہ ہم کیا کر رہے ہیں کس مقدس نام کو کیسے استعمال کر رہے ہیں اور مگر فِي آيَاتِنَا ہے تو وہ یہ جاری ہے اور مسلسل چلتا چلا جا رہا ہے۔ ہر مصیبت کے لئے کوئی نہ کوئی نیا نسخہ پیش ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جماعت اسلامی کہتی ہے کہ یہ جو اب مصیبتیں آئی ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ تم نے جماعت اسلامی سے انحراف کیا ہے اور اس کی باتیں نہیں مانیں اور جمعیت العلماء اسلام کہتی ہے کہ تم نے چونکہ اسلام کی ہماری تعبیر کو قبول نہیں کیا بلکہ کوئی اور اسلام جاری کر دیا ہے اس لئے خدا تعالیٰ تم سے ناراض ہو گیا ہے۔ پہلے خدا نا راض کیوں نہیں تھا جبکہ اسلام کا نام بھی نہیں تھا۔ جبکہ انصاف کی حکومت تھی ، اس وقت خدا کہاں چلا گیا تھا اس کی غیرت کہاں تھی؟ اچھا بھلا پاکستان تھا، ساری دنیا میں اس کی عزت تھی ، شہرت تھی ، ہر جگہ انصاف جاری تھا۔ بد دیانتیاں تو ہر ملک میں ہوتی ہیں مگر پاکستان میں برائے نام تھیں، بہت معمولی سی ۔ ایک پولیس کا محکمہ تھا جو بد نام تھا اب تو پولیس کا محکمہ نیک نام تو نہیں کہہ سکتے لیکن باقی سب محکمات سے مل جل سا گیا ہے۔ سارے پولیس کے اہلکار لگتے ہیں۔ ہر جگہ نحوست ہے جو چہروں پر لکھی جاچکی ہے۔ قرآن کریم تو فرماتا ہے ہے، ایسی نحوست ہے جو چہروں پر سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ (الفتح: ۳۰) ان کی نشانیاں ، ان کی پاک نور