خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 779
خطبات طاہر جلد ۱۰ 779 خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء مولویوں کو اپنی جوتی کی نوک پر بھی رکھتی۔صرف احمدیت کے تعلق کا خوف ہے، احمدیت کی دیانتداری کا خوف ہے جو ہمارے سیاستدان کو دن بدن مولویوں کے سامنے جھکنے پر مجبور کرتا چلا جاتا ہے۔جب احمدیت سے تعلق کی دھمکی ہو تو اس دھمکی کے اثر سے نکلنے کے لئے سب کچھ کر گزرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔انصاف کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں ، عقل کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں جتنا بھی باقی ہے اور یہ نہیں سوچتے کہ دنیا کی سیاستیں اس طرح زندہ نہیں رہا کرتیں۔پہلو در پہلو ایک عام عدالت جاری ہے، ایک شرعی عدالت جاری ہوگئی ، ایک عام قانون جاری ہے ایک شرعی قانون جاری ہو گیا ہے اور چند مولویوں کے ہاتھ میں شریعت کی تعبیر اس طرح چھوڑ دی گئی کہ شریعت کورٹ جو بھی فیصلے دیتی ہے اب ہمارے پاکستانی اسمبلیوں کے نمائندے مجبور ہو چکے ہیں۔اپنے ہاتھوں سے انہوں نے اپنے آپ کو رسیوں میں جکڑ لیا ہے۔جو وہ کہیں اسلام کے نام پر ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔اتنا دوغلا پن پیدا ہو چکا ہے ہمارے قانون میں کہ بعض قانون دان اس پر بڑی سخت تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔تو ایک موسیٰ کی قوم تھی یعنی موسیٰ کے مقابل پر فرعون کی قوم میں کہنا چاہتا تھا جو ظلم کرتی تھی اور ظلم کے بعد اتنی عقل ضرور رکھتی تھی کہ بجھتی تھی کہ ظلم کا کچھ تعلق ضرور ہے ہماری شامت اعمال سے۔بداعمالیاں ہیں تو شامت اعمال ہیں اور پھر وہ جا کر اپنے ظلموں کی معافی بھی مانگتے تھے اور استدعا بھی کرتے تھے کہ ہمارے لئے دعا کرو اللہ تعالیٰ ان مصیبتوں کو ٹال دے اور قرآن کریم نے عبرت کے طور پر ان کے واقعات کو ہمارے سامنے کھول کر رکھ دیا لیکن آج کے باشعور زمانے میں جبکہ تعلیم کا چرچا ہے، دنیا سمجھتی ہے کہ اتنی ترقی ہو چکی ہے، اتنا آگے نکل گئی ہے۔اس زمانے میں عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ پاکستان اور بعض دوسرے ملکوں میں اتنی سوچ بھی باقی نہیں رہی کہ یہ باتوں سے آپس میں رشتے تو ملا کر دیکھیں تب سے پاکستان مصیبت میں مبتلا ہوا ہے جب سے احمدیوں کو اسلام سے باہر نکالا ہے۔اسلام کے اندر اسلام کی برکت کی یہی ضمانت تھی۔یہی وہ تعویذ تھا جس کے نام پر اسلام کا تقدس جاری تھا اور اس تعویذ کو تو آپ نے نکال کر باہر پھینک دیا۔پیچھے پھر اسلام کیا اور اسلام کی برکتیں کیا سب کچھ ہاتھ سے جاتا رہا ہے اور مسلسل اس کے بعد سے سیاست گندی سے گندی ہوتی چلی جارہی ہے ہٹتی ہی جارہی ہے، Horse Trading کا محاورہ ایسا کھلا کھلا استعمال ہوتا ہے کہ جیسے روز